بلوچستان میں مبینہ لاپتہ افراد کے حوالے سے سرگرم تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کا ریاست مخالف بیانیہ ایک بار پھر شواہد کی بنیاد پر ناکام ہو گیا ہے۔ بی وائی سی کی جانب سے اگست 2025 میں جبری طور پر گمشدہ قرار دیا جانے والا یوسف نامی شخص حقیقت میں بھارتی پراکسی قرار دی جانے والی مسلح تنظیم فتنۃ الہندوستان کا خطرناک دہشت گرد نکلا ہے۔
حقائق کی روشنی میں بی وائی سی کے احتجاجی دھرنوں میں یوسف کی گمشدگی کا تمام تر الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا جاتا رہا تھا۔ تاہم اب یہ تصدیق ہوئی ہے کہ نام نہاد مسنگ پرسن یوسف سال 2025 میں ہی خفیہ طور پر فتنۃ الہندوستان میں شامل ہو چکا تھا، جس کا باقاعدہ اعتراف خود مذکورہ کالعدم تنظیم نے اپنے حالیہ بیان میں کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق،بی وائی سی کا یہ نام نہاد لاپتہ کارندہ رواں برس 5 مارچ 2026 کو بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز پر کیے گئے ایک کاروائی کے دوران ہلاک ہوا تھا، جہاں وہ ریاست مخالف مسلح سرگرمیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔
خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سیاسی و سکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے نام نہاد انسانی حقوق کی مہم جوئی اور مسلح دہشت گردی کے درمیان موجود گہرے گٹھ جوڑ کو پوری طرح عیاں کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ معصوم نوجوانوں کو ورغلانے اور مسلح کارندوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کے پیچھے منظم مقاصد کارفرما ہیں، تاکہ دہشت گردی کے اصل نیٹ ورک کو عوامی ہمدردی کی آڑ میں چھپایا جا سکے۔