اسلام آباد: ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ نور خان ایئر بیس پر ان کے طیارے کی لینڈنگ کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے ایرانی صدر کا پرجوش اور پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے معزز مہمان کو سلامی دی، جبکہ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے ایرانی صدر کو گلدستے پیش کیے۔
ایرانی صدر جس خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچے ہیں، اسے میناب کا نام دیا گیا ہے، جو ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید بچوں کی یاد میں منسوب ہے۔ اس علامتی اقدام کو دونوں ممالک کے سفارتی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس اہم دورے میں ایرانی صدر کے ہمراہ آنے والے اعلیٰ سطحی وفد میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنے اس مختصر دورے کے دوران صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ایرانی صدر کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کا بنیادی ایجنڈا پاک، امریکہ اور ایران کے مابین تناؤ کم کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کرنا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان خطے میں امن و امان کے قیام اور ثالثی کے مخلصانہ کردار پر پاکستان کی قیادت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور بھی زیر غور آئیں گے۔