پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد افغان طالبان شدید بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق کنڑ، پکتیا اور پکتیکا کے سرحدی علاقوں میں حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو کھلے عام زمینی سطح پر بدلہ لینے کی گیدڑ بھبکی دے دی ہے۔
فضائی ناکامی کا اعتراف
بین الاقوامی اور افغان ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت فضائی محاذ پر پاکستان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور نہ ہی وہ فضائی سطح پر ان حملوں کا کوئی جواب دے سکتے ہیں۔
تاہم، اپنی اس عسکری کمزوری کا پردہ رکھنے کے لیے انہوں نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ فضائی طور پر جواب نہیں دے سکتے، تو پاکستان سے زمینی سطح پر بدلہ لیا جائے گا۔
#BREAKING
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) June 29, 2026
If We Fail in the Air, We Will Take Revenge on Pakistan by Land, Says TTA Spokesman
Following Pakistani airstrikes in Kunar, Paktia, and Paktika, Taliban spokesperson Zabihullah Mujahid warned that if they cannot respond by air, they will “take revenge by land.” pic.twitter.com/gGvWW3R57T
پاکستان کا اصولی موقف
پاکستانی سیکیورٹی اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اس طرح کے دھمکی آمیز بیانات دراصل اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں (جیسے ٹی ٹی پی و دیگر) کو تحفظ دینے اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک ناامید کوشش ہے۔
پاکستان ہمیشہ اس موقف پر قائم رہا ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے دوطرفہ وعدے پورے کریں۔ حکام کا واضح کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور ایسی کسی بھی زمینی یا فضائی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔