سفارتی و ملکی ماہرین نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی حالیہ رپورٹس اور طرزِ عمل کو سراسر بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ماہرین کے مطابق یوناما اب افغان طالبان کا ترجمان بن چکا ہے اور اس کی حیثیت ایک پروپیگنڈا ونگ سے زیادہ نہیں رہی۔
سفارتی ذرائع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی ڈالرز میں بھاری تنخواہیں وصول کرنے والے اقوام متحدہ کے بعض اہلکار اپنے مراعات یافتہ عہدوں کا جواز پیدا کرنے کے لیے طالبان کی وزارتِ اطلاعات کی تیار کردہ تحریروں کو من و عن اپنے نام سے شائع کر رہے ہیں۔
متعلقہ ماہرین کے مطابق یہ اہلکار آرام دہ اور پرآسائش دفاتر تک محدود ہیں اور ان کا کوئی بھی نمائندہ زمینی حقائق کی تصدیق کے لیے متعلقہ علاقوں کا رخ نہیں کرتا۔
سکیورٹی اور ملکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث عملاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو یہ ترغیب مل رہی ہے کہ وہ شہری اور گنجان آباد علاقوں میں اپنی محفوظ پناہ گاہیں قائم رکھے اور کارروائیوں سے بچنے کے لیے اپنے ہی اہل خانہ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔
ماہرین نے سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ طالبان حکومت اپنے اسلحہ کے ذخائر اور ڈرون رکھنے کی تنصیبات کو بھی شہری آبادیوں کے درمیان منتقل کر رہی ہے۔
تاہم واضح کیا گیا ہے کہ یہ حربے کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے اور دہشت گرد جہاں کہیں بھی چھپیں گے، انہیں قانون اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے نشانہ بنایا جائے گا۔ اس مؤقف پر زور دیا گیا ہے کہ چند بین الاقوامی اہلکاروں کی تنخواہوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستانی شہریوں کے خون کی قربانی نہیں دی جا سکتی۔