اسلام آباد: پاکستان میں حالیہ سالوں کے دوران ہونے والے متعدد ہولناک خودکش حملوں اور تخریب کاری کی مختلف سنگین کارروائیوں میں افغان شہریوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی ایک انتہائی تفصیلی اور دستاویزی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔ سرکاری سطح پر مرتب کی گئی اس تفصیل میں ان تمام مبینہ افغان کارندوں اور خودکش بمباروں کا ریکارڈ پیش کیا گیا ہے جو پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران مارے گئے یا جنہوں نے حساس مقامات پر خود کو دھماکوں سے اڑایا۔
افغان بمباروں کی شناخت
دستاویز میں فراہم کردہ حقائق کے مطابق پاکستان کی تاریخ کے کئی بڑے خودکش حملوں کے تانے بانے براہ راست افغان شہریوں سے ملتے ہیں۔ 4 مارچ 2022 کو پشاور کے علاقے کوچہ رسالدار میں واقع امام بارگاہ پر ہولناک خودکش حملہ کرنے والے مبینہ دہشت گرد کی شناخت یاسین کے نام سے ہوئی جو افغان باشندہ تھا۔
اسی طرح 18 جولائی 2023 کو حیات آباد پشاور میں غیرت اللہ نامی افغان شہری نے خودکش دھماکہ کیا۔ بنوں کا علاقہ بھی مسلسل افغان خودکش بمباروں کا نشانہ بنا رہا، جہاں 31 اگست 2023 کو زرار نامی افغان شہری نے بارودی گاڑی کے ذریعے، 7 ستمبر 2023 کو ابوبکر اور 26 نومبر 2023 کو ربیع اللہ نامی مبینہ افغان دہشت گردوں نے خودکش حملے کیے۔
مزید برآں 26 مارچ 2024 کو بشام میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر بارود سے بھری کار ٹکرانے والا متقی بھی افغان شہری تھا، جبکہ 15 جولائی 2024 کو بنوں میں عثمان اللہ نامی افغان کارندے نے بارودی گاڑی کے ذریعے تباہی پھیلائی۔
بھاری جانی نقصان
رپورٹ کے ضمیمہ جات میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی تفصیل بھی شامل ہے جس میں بڑے پیمانے پر افغان شہری مارے گئے۔ دستاویز کے مطابق 25 اور 26 اپریل 2025 کو شمالی وزیرستان میں ایک بڑی کارروائی کے دوران 45 مبینہ افغان دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں اہم کمانڈرز محمد اللہ عرف شاہین، ولی الرحمٰن عرف کوثر، یاسین اللہ روحانی، سمیع اللہ ذوالفقار اور زیت اللہ انقلابی سمیت درجنوں مسلح کارندے شامل تھے۔
اسی طرح 7 اگست 2025 کو ہونے والے ایک اور آپریشن میں بیک وقت 54 مبینہ افغان شہری مارے گئے جن میں احمد، عبدالولی، سخی جان اور محمد افضل نمایاں تھے، جبکہ اسی تاریخ کو ایک اور کارروائی میں مزید 16 افغان کارندے ہلاک ہوئے جن میں مولوی حمید، مولوی شرافت اور شہاب الدین شامل تھے۔
سیکیورٹی آپریشنز اور ہلاکتیں
دستاویز کے مطابق یہ سلسلہ سال 2025 کے آخری مہینوں تک مسلسل برقرار رہا۔ 23 مارچ 2025 کو شمالی وزیرستان میں 6 افغان دہشت گرد سلیم، سبحان اور قیوم وغیرہ مارے گئے۔ 25 اپریل 2025 کو ٹانک میں تین افغان شہری ابراہیم، شیر ولی اور مدم ہلاک ہوئے۔ 17 سے 20 جولائی 2025 کے درمیان صداقت، ابوذر اور صمد سمیت 9 افغان کارندے مارے گئے۔
اگست 2025 میں جمشید اور حفیظ، جبکہ 2 ستمبر 2025 کو عبدالعزیز عرف قاصد مہاجر اور شبیر احمد عرف بلال مہاجر نامی افغان باشندے مارے گئے۔ 30 ستمبر 2025 کو افغانستان کے صوبے ہلمند کے رہائشی عبدال باسط کی پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت ریکارڈ کا حصہ بنی۔
بین الاقوامی اثرات
یہ تمام تفصیلات واضح کرتی ہیں کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے چیلنجز میں سرحد پار کا عنصر کس حد تک گہرا اور تزویراتی نوعیت کا ہے، جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔
دیکھیے: پاکستان میں ملوث افغان دہشت گردوں کے افغانستان میں جنازے، شواہد سامنے آ گئے