"> سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: بین الاقوامی سیمینار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور پانی کو ہتھیار بنانا غیر قانونی ہے: بین الاقوامی سیمینار

اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ عالمی سیمینار میں ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی گنجائش نہیں، پانی کی بندش سے 24 کروڑ عوام کا مستقبل متاثر ہوگا۔

June 30, 2026

سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک اہم بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے نامور آبی و قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں ماہرین نے اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور قانونی طور پر پابند بین الاقوامی دستاویز ہے، جسے کوئی بھی فریق اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا مجاز ہے۔

پانی کا بطور ہتھیار استعمال

سیمینار کے مقررین نے اپنے خطابات میں اس بات پر شدید زور دیا کہ پانی کو کسی بھی صورت حال میں سیاسی دباؤ یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون ہمیشہ باہمی تعاون، تعمیری مذاکرات اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے، اور اس میں جبر، دھمکی یا کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

معاہدے کی کامیابی اور کردار

شرکا نے سندھ طاس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین اور پائیدار ترین آبی معاہدوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون اور علاقائی استحکام کی بنیادی وجہ بنا رہا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی اور ماضی کی جنگوں کے باوجود اس معاہدے کا برقرار رہنا اس کی مضبوطی اور افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

معیشت پر اثرات

مستقل آبی بہاؤ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، قومی معیشت اور 24 کروڑ سے زائد عوام کا روزگار براہ راست دریاؤں کے مستقل اور متوقع بہاؤ سے جڑا ہوا ہے۔

دریاؤں کے قدرتی بہاؤ یا پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے سنگین معاشی، سماجی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو خطے کو بڑے بحران سے دوچار کر دیں گے۔

قانونی طریقہ کار

سیمینار کے دوران اس نکتے پر بھی اصرار کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تمام تر تکنیکی اور قانونی تنازعات کو معاہدے کے اندر ہی موجود طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

شرکاء کے مطابق مستقل انڈس کمیشن اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز ہی ان مسائل کے حل کے لیے موزوں ترین فورم ہیں، اور کسی بھی ملک کو یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

عالمی برادری کی ذمہ داری

بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے مسلمہ اور قائم شدہ نظام میں کسی بھی قسم کا خلل ڈالنے سے نہ صرف علاقائی امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال شدید متاثر ہوگی، بلکہ ریاستوں کے مابین موجود سفارتی اعتماد کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

شرکا نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت، سالمیت اور اس پر مؤثر عمل درآمد کا تحفظ کرنا صرف ایک قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ خطے میں آبی وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام اور مشترکہ بقا کے لیے سب کی یکساں ذمہ داری ہے۔

دیکھیے: بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا: روسی ماہر

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *