پاکستان میں ہونے والے بڑے خودکش حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں افغان شہریوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی تفصیلی اور دستاویزی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔

June 30, 2026

پاکستان نے شواہد کے ساتھ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دے دیا۔ کراچی حملے میں گرفتار افغان کارندے نے وہاں قائم تربیتی مراکز کا اعتراف کر لیا ہے۔

June 30, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کے دوران ہلاک افغان شہریوں اور ٹی ٹی پی کمانڈرز کے افغانستان اور بیرون ملک جنازوں اور تعزیتی تقریبات کے ناقابل تردید شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

June 30, 2026

اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

June 30, 2026

روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔

June 30, 2026

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور پانی کو ہتھیار بنانا غیر قانونی ہے: بین الاقوامی سیمینار

اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ عالمی سیمینار میں ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی گنجائش نہیں، پانی کی بندش سے 24 کروڑ عوام کا مستقبل متاثر ہوگا۔

June 30, 2026

سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک اہم بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے نامور آبی و قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں ماہرین نے اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور قانونی طور پر پابند بین الاقوامی دستاویز ہے، جسے کوئی بھی فریق اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا مجاز ہے۔

پانی کا بطور ہتھیار استعمال

سیمینار کے مقررین نے اپنے خطابات میں اس بات پر شدید زور دیا کہ پانی کو کسی بھی صورت حال میں سیاسی دباؤ یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون ہمیشہ باہمی تعاون، تعمیری مذاکرات اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے، اور اس میں جبر، دھمکی یا کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

معاہدے کی کامیابی اور کردار

شرکا نے سندھ طاس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین اور پائیدار ترین آبی معاہدوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون اور علاقائی استحکام کی بنیادی وجہ بنا رہا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی اور ماضی کی جنگوں کے باوجود اس معاہدے کا برقرار رہنا اس کی مضبوطی اور افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

معیشت پر اثرات

مستقل آبی بہاؤ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ، قومی معیشت اور 24 کروڑ سے زائد عوام کا روزگار براہ راست دریاؤں کے مستقل اور متوقع بہاؤ سے جڑا ہوا ہے۔

دریاؤں کے قدرتی بہاؤ یا پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے سنگین معاشی، سماجی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو خطے کو بڑے بحران سے دوچار کر دیں گے۔

قانونی طریقہ کار

سیمینار کے دوران اس نکتے پر بھی اصرار کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تمام تر تکنیکی اور قانونی تنازعات کو معاہدے کے اندر ہی موجود طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

شرکاء کے مطابق مستقل انڈس کمیشن اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز ہی ان مسائل کے حل کے لیے موزوں ترین فورم ہیں، اور کسی بھی ملک کو یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

عالمی برادری کی ذمہ داری

بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے مسلمہ اور قائم شدہ نظام میں کسی بھی قسم کا خلل ڈالنے سے نہ صرف علاقائی امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال شدید متاثر ہوگی، بلکہ ریاستوں کے مابین موجود سفارتی اعتماد کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

شرکا نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت، سالمیت اور اس پر مؤثر عمل درآمد کا تحفظ کرنا صرف ایک قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ خطے میں آبی وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام اور مشترکہ بقا کے لیے سب کی یکساں ذمہ داری ہے۔

دیکھیے: بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا: روسی ماہر

متعلقہ مضامین

پاکستان میں ہونے والے بڑے خودکش حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں افغان شہریوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی تفصیلی اور دستاویزی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔

June 30, 2026

پاکستان نے شواہد کے ساتھ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دے دیا۔ کراچی حملے میں گرفتار افغان کارندے نے وہاں قائم تربیتی مراکز کا اعتراف کر لیا ہے۔

June 30, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کے دوران ہلاک افغان شہریوں اور ٹی ٹی پی کمانڈرز کے افغانستان اور بیرون ملک جنازوں اور تعزیتی تقریبات کے ناقابل تردید شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

June 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *