"> سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: روسی ماہر
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا: روسی ماہر

روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔
روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔

روسی ماہر بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی گنجائش نہیں اور بھارتی اقدامات عالمی قوانین کے منافی ہیں۔

June 30, 2026

اسلام آباد: روسی ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کے بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو سیاسی یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے اقدامات پورے خطے کے امن و استحکام کو داؤ پر لگا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم، علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کی بنیادی ضمانت ہے۔

انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زراعت دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے، جبکہ ملک کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے بھی دریائے سندھ کے آبی نظام سے وابستہ ہیں۔ اس لیے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی مداخلت پاکستان کی معیشت، توانائی اور غذائی تحفظ کو براہ راست متاثر کرے گی۔

روسی ماہر نے بھارتی آبی جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دریاؤں کے بہاؤ میں ردوبدل کرکے پاکستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ دریائے چناب میں پانی کے غیر معمولی بہاؤ پر پاکستان متعدد مرتبہ نئی دہلی کو احتجاجی خطوط ارسال کر چکا ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی مسلسل تعمیر خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاک بھارت کشیدگی اور ہولناک جنگوں کے باوجود آبی تعاون کو برقرار رکھا۔

معاہدے کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دستاویز میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر علیحدگی یا اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس لیے بھارت کا ایسا کوئی بھی قدم غیر قانونی تصور ہوگا۔

ڈاکٹر زیگون نے زور دیا کہ مستقل انڈس کمیشن دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر اور تسلیم شدہ فورم ہے، لیکن بھارت کی یکطرفہ پالیسیاں اس نظام کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس حساس معاملے پر سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ روسی ماہر نے خبردار کیا کہ سیاسی مقاصد کے لیے اس معاہدے کو کمزور کرنا دنیا بھر کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا، لہٰذا جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے سندھ طاس معاہدے کا مکمل احترام ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *