اسلام آباد: روسی ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کے بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو سیاسی یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے اقدامات پورے خطے کے امن و استحکام کو داؤ پر لگا سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم، علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کی بنیادی ضمانت ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زراعت دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے، جبکہ ملک کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے بھی دریائے سندھ کے آبی نظام سے وابستہ ہیں۔ اس لیے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی مداخلت پاکستان کی معیشت، توانائی اور غذائی تحفظ کو براہ راست متاثر کرے گی۔
روسی ماہر نے بھارتی آبی جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دریاؤں کے بہاؤ میں ردوبدل کرکے پاکستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ دریائے چناب میں پانی کے غیر معمولی بہاؤ پر پاکستان متعدد مرتبہ نئی دہلی کو احتجاجی خطوط ارسال کر چکا ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی مسلسل تعمیر خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاک بھارت کشیدگی اور ہولناک جنگوں کے باوجود آبی تعاون کو برقرار رکھا۔
معاہدے کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دستاویز میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر علیحدگی یا اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس لیے بھارت کا ایسا کوئی بھی قدم غیر قانونی تصور ہوگا۔
ڈاکٹر زیگون نے زور دیا کہ مستقل انڈس کمیشن دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر اور تسلیم شدہ فورم ہے، لیکن بھارت کی یکطرفہ پالیسیاں اس نظام کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس حساس معاملے پر سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ روسی ماہر نے خبردار کیا کہ سیاسی مقاصد کے لیے اس معاہدے کو کمزور کرنا دنیا بھر کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا، لہٰذا جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے سندھ طاس معاہدے کا مکمل احترام ناگزیر ہے۔