اسلام آباد: وفاقی وزیر مصدق ملک نے واشگاف الفاظ میں ریمارکس دیے ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین اور مسلمہ بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، اور پاکستان اپنے حصے کے پانی کے حق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے کسی بھی ملک کو علاقائی اور عالمی امن و امان کو یرغمال بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے، جو محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر انصاف کا معاملہ ہے۔
انہوں نے موسمیاتی اور جغرافیائی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایک بہت بڑی آبادی کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے، لیکن اصل تشویشناک امر پانی کے قدرتی بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔
پانی کی عدم دستیابی کے باعث کسان تیزی سے زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اور یہ سنگین صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلادیش اور افریقا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دریائے نیل اور فرات جیسے تاریخی دریاؤں پر دیکھی جا رہی ہے۔
مصدق ملک نے پڑوسی ملک بھارت کی آبی جارحیت اور ماحولیاتی آلودگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کی طرف آنے والے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، بلکہ وہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کے ان اقدامات اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے پاکستان میں اب تک 6 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اتنی ہلاکتیں روایتی جنگوں میں بھی نہیں ہوتیں۔
وفاقی وزیر نے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تین بڑی جنگوں کے دوران بھی قائم رہا۔ اگر اتنا مضبوط ترین معاہدہ برقرار نہ رہ سکا تو پھر دنیا کا کوئی بھی دوسرا بین الاقوامی معاہدہ قائم نہیں رہ سکے گا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے نشیبی ممالک کے حصے کا پانی روکے جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
انہوں نے عالمی برادری کو یاد دہانی کروائی کہ عالمی ثالثی عدالت اس سلسلے میں انتہائی واضح فیصلے صادر کر چکی ہے، جن کے مطابق کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر پانی کے ذخائر یا غیر قانونی ڈیم تعمیر کرنے کا مجاز نہیں، تاہم بھارت مسلسل ان عالمی فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔