اسلام آباد: پاکستان میں سرحد پار سے جاری دہشت گردی اور تخریب کاری کی ہولناک کارروائیوں میں ملوث افغان شہریوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان کے مختلف صوبوں اور بیرون ملک ان کے جنازوں اور باقاعدہ تعزیتی تقریبات کے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ یہ شواہد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان سرزمین کے درمیان گہرے روابط اور افغان شہریوں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں براہ راست شمولیت کا واضح ثبوت ہیں۔
فرانس تک تعزیتی تقریب
حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق دہشت گرد ملا صدام عرف حذیفہ (ولد عبد الباقی) افغانستان کے صوبہ کندز کے ضلع 3 کا رہائشی تھا۔ یہ کارندہ پاکستان کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران مارے جانے والے چار ٹی ٹی پی دہشت گردوں میں شامل تھا، جن میں تین افغان شہری تھے۔
ہلاکت کے بعد اس کے لیے پہلی تعزیتی تقریب 24 اکتوبر 2025 کو کندز کی جامع مسجد خما کاری میں منعقد کی گئی، جبکہ اس کے نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط کا ثبوت اس وقت ملا جب 26 اکتوبر 2025 کو فرانس کے شہر رینس کی مسجد التقویٰ میں بھی اس کے لیے ایک تعزیتی اجتماع منعقد کیا گیا، جس کا ویڈیو ریکارڈ بھی موجود ہے۔
کے پی اور افغان بمبار
دہشت گردی کے دیگر واقعات میں، 10 نومبر 2025 کو جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت جان اللہ عرف زاہد ایوبی کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع موہمنڈ درہ (کوچیانو گاؤں) کا افغان باشندہ اور داولت خان تقی کا بیٹا تھا۔
زاہد ایوبی کی ہلاکت پر 22 دسمبر 2025 کو افغانستان میں تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اسی طرح، بنوں کینٹونمنٹ حملے میں ملوث افغان خودکش بمبار عثمان اللہ کامران کی فاتحہ خوانی کی تقریب 19 جولائی 2024 کو اس کے آبائی گھر واقع آرجورا گاؤں، ضلع جانی خیل (صوبہ پکتیا) میں منعقد کی گئی، اور تقریب سے قبل اس کے گھر پر باقاعدہ پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے۔
پاکستان کے خلاف جنگ کی اپیل
ایک اور سنگین واقعے میں، 27 جنوری 2026 کو کابل کے ضلع گردہ میں ہلاک دہشت گرد عیوب ذاکر کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر افغان طالبان سے وابستہ ممتاز عالم مولوی شیر علی حماد نے جنازے کے شرکا کے سامنے پاکستان کے خلاف کھلم کھلا جنگ کی اپیل کی اور شدید مخالفانہ نعرے بازی کی۔
افغان عالم نے پاکستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کی حکومتوں کو غیر اسلامی قرار دیا۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ کُنر میں پاک-افغان سرحد کے قریب مارا جانے والا عیوب ذاکر اس سے قبل افغان طالبان کی صفوں میں سرکاری عہدے پر بھی فائز رہ چکا تھا۔
افغان سرزمین پر تدفین
شواہد کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افغان دہشت گرد نُصرت اللہ عرف عاطف کی تعزیتی تقریب 10 جون 2024 کو سادات خیلہ کلی، سیکئی درہ، ضلع چک (صوبہ وردک) کی ایک مقامی مسجد میں منعقد کی گئی۔
دوسری جانب ٹی ٹی پی باجوڑ کے سینئر کمانڈر مولانا عبداللہ باجوڑی (رہائشی تحصیل بندہ ماموند، باجوڑ) جو آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان منتقل ہو گئے تھے اور وہاں جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے لیے سرگرم تھے، صوبہ کنر میں سابقہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے، جن کی باقاعدہ نماز جنازہ اور تدفین افغان صوبہ کنر میں ہی کی گئی۔
یہ تمام شواہد ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں خونریزی کرنے والے عناصر کو پڑوسی ملک میں محفوظ پناہ گاہیں اور مادی و نظریاتی پشت پناہی حاصل ہے۔
دیکھیے: دہشت گرد جہاں چھپیں گے نشانہ بنیں گے، یوناما طالبان کا ترجمان بن چکا ہے: پاکستان