دہشت گردی، ریاست مخالف تشدد اور ملکی سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے اسلام آباد کے معروف تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز نے جون 2026 کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران ملک میں دہشت گردی اور ریاست مخالف تشدد کے واقعات میں مجموعی طور پر واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود کئی ہائی پروفائل اور شدید نوعیت کے حملے بدستور جاری رہے۔
اموات کے اعداد و شمار
پی آئی سی ایس ایس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جون کے مہینے میں سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں 184 دہشت گرد مارے گئے، جو ماہ کے دوران ہونے والی مجموعی 262 اموات میں سب سے بڑا حصہ ہیں۔
دوسری جانب دہشت گردی کے ان مختلف واقعات میں 52 شہری اور 26 سکیورٹی اہلکار بھی جان کی بازی ہار گئے۔ زخمی ہونے والوں کی تفصیلات کے مطابق گذشتہ ماہ 63 شہری، 50 سکیورٹی اہلکار، 18 حکومتی امن کمیٹی کے اراکین اور 3 دہشت گرد زخمی ہوئے ہیں۔
مئی سے موازنہ
مئی 2026 کے مقابلے میں جون کے دوران سکیورٹی فورسز کی اموات میں 62 فیصد، شہری اموات میں 27 فیصد جبکہ دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح زخمیوں کے حوالے سے سکیورٹی اہلکاروں میں 43 فیصد، شہریوں میں 57 فیصد اور دہشت گردوں میں 67 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق اغوا کے واقعات بھی 50 فیصد کمی کے ساتھ 54 سے کم ہو کر 27 رہ گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 27 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا۔
ہائی پروفائل حملے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گرد حملوں کی مجموعی تعداد مئی میں 128 سے کم ہو کر جون میں 108 رہ گئی، جو کہ تقریباً 16 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو اب بھی بھاری اور سخت حملوں کا سامنا ہے، جن میں کم از کم چار خودکش حملے شامل ہیں۔
ان میں سے تین گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے تھے، جن میں 27 جون کو کراچی میں سندھ رینجرز کے کمپاؤنڈ پر ہونے والا ہائی پروفائل حملہ بھی شامل ہے، جس میں تین سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ مئی میں ملک میں چھ خودکش حملے ہوئے تھے۔
بلوچستان اور فاٹا
صوبائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستان میں دہشت گردی میں واضح کمی دیکھی گئی، جہاں حملوں کی تعداد مئی میں 71 سے کم ہو کر جون میں 49 رہ گئی، جو 31 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ سابق فاٹا کے قبائلی اضلاع میں بھی حملوں میں 23 فیصد کمی آئی اور یہ تعداد 22 سے کم ہو کر 17 ہو گئی۔
دیگر صوبوں کی صورتحال
خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جہاں حملے 32 سے بڑھ کر 37 ہو گئے، جس کے دوران 9 جون کو پشاور کے حسن خیل علاقے میں چیک پوسٹ پر قبصے کی کوشش کے دوران 6 ایف سی اہلکار شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔
سندھ میں بھی دہشت گردی کے واقعات 1 سے بڑھ کر 4 ہو گئے، جبکہ پنجاب میں صرف ایک حملہ رپورٹ ہوا اور اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کوئی حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔
چھ ماہ کی رپورٹ
پی آئی سی ایس ایس نے سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کی مجموعی رپورٹ بھی شامل کی ہے، جس کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 2,166 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 1,442 دہشت گرد، 404 شہری، 307 سکیورٹی اہلکار اور 13 امن کمیٹی کے اراکین شامل ہیں۔
اسی عرصے کے دوران 1,137 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں شہریوں کی تعداد 692، سکیورٹی اہلکار 281، دہشت گرد 136 اور امن کمیٹی کے 28 ارکان شامل ہیں، جبکہ یاد رہے کہ سال 2025 میں پاکستان پہلی مرتبہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پہلے نمبر پر آیا تھا، اور اس دوران دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔