افغانستان کے صوبے خوست سے سامنے آنے والے ایک انتہائی دلخراش واقعے نے طالبان کے نام نہاد عدالتی نظام اور کمانڈروں کو حاصل مبینہ استثنا کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، خوست کے ضلع دہ مند کے ایک متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کے دو بااثر کمانڈروں نے رات کے وقت ان کے گھر پر چھاپے کے دوران دو بیٹیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب متاثرہ خاندان نے انصاف کے حصول کے لیے طالبان کی فوجی عدالت سے رجوع کیا، تو انہیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے خاموش رہنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ افغان نظام میں آواز اٹھانے والے مظلوموں کو سزا دی جاتی ہے جبکہ بااثر مسلح افراد قانون اور احتساب سے بالاتر ہیں۔
سفارتی اور انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر اپنے اختیارات کی آڑ میں انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ نام نہاد اخلاقی ضوابط صرف بے اختیار اور عام شہریوں پر نافذ ہوتے ہیں، جبکہ مسلح طالبان اہلکار ان سے مکمل مستثنیٰ ہیں۔
ہر وہ کمانڈر جو سنگین جرائم کے بعد بھی تحقیقات سے بچ نکلتا ہے، وہ افغان خواتین کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ طالبان کی وردی تحفظ کے بجائے جرائم کو چھپانے کی ایک ڈھال بن چکی ہے۔ درحقیقت، طالبان انتظامیہ کو اپنے کمانڈروں کے جرائم سے زیادہ ان کے بے نقاب ہونے کا خوف ہے، کیونکہ ایسے واقعات ان کے عدالتی دعوؤں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ جو حکومت انصاف مانگنے والوں کو خوف زدہ کرے، وہ حکمرانی کا اخلاقی جواز کھو دیتی ہے اور اس کی عدالتیں انصاف کے بجائے اقتدار کے تحفظ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان قیادت اپنے ماتحت کمانڈروں کے ان جرائم سے لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ افراد حکومت کے فراہم کردہ اسلحے، اختیار اور سرپرستی کے بل بوتے پر کارروائیاں کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایسی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، جو بیرونِ ملک قانونی حیثیت کا مطالبہ تو کرے لیکن اپنے ہی شہریوں کو بنیادی انصاف فراہم کرنے سے انکار کر دے۔ افغان خواتین کی موجودہ کسمپرسی کی وجہ اختیار کی کمی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس نے تمام طاقت ایسے افراد کو سونپ دی ہے جو خود کو ہر قانون سے بالا سمجھتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسٹریٹجک ماہرین اس کا ذمہ دار دوحہ معاہدے اور زلمے خلیل زاد کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان کو ایک ایسے نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جہاں جبر، خوف اور احتساب سے استثنا حکمرانی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں، اور لاکھوں افغان شہری ایک بے بس زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔