امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اور جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے، اور وہ تہران کے ساتھ مزید کسی قسم کی ڈیل نہیں کرنا چاہتے۔
نیٹو کے انقرہ سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کئی دہائیوں سے خطے میں عدم استحکام کا باعث بنا ہوا ہے، اس لیے امریکہ کی اولین ترجیح ایران کی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے دورانِ گفتگو نیٹو کے کردار پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ گرین لینڈ اور ایران کے معاملے پر بعض اتحادی امریکہ کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے۔ انہوں نے اسپین کو نیٹو کا خراب شراکت دار قرار دیتے ہوئے وارننگ دی کہ وہ اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی کارکردگی کو سراہا، تاہم واضح کیا کہ ہر رکن ملک کو مشترکہ دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی کیونکہ وہ ایران کے معاملے پر مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ناکام، پاکستان کی سفارت کاری سے جنگ بندی ممکن