سکھ برادری کے خلاف بھارتی ریاست کے تاریخی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی فلم ستلج کو ریلیز کے محض دو دن بعد ہی ہٹا دیا گیا ہے۔ مودی حکومت اور ہندو انتہا پسند حلقوں کے دباؤ کے باعث سنسرشپ کا شکار ہونے والی اس فلم میں سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے منظم قتلِ عام، ان کے معاشی و سماجی استحصال اور نئی دہلی کی ریاستی پالیسیوں کو دستاویزی حقائق کے ساتھ آشکار کیا گیا تھا۔
سکھوں کا قتلِ عام
فلم ستلج میں 1984 کے ان بھیانک تاریخی واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پورے بھارت، بالخصوص نئی دہلی میں ہندو بلوائیوں نے کانگریس کی سرپرستی میں سکھ برادری پر زمین تنگ کر دی تھی۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ہزاروں بے گناہ سکھوں کو زندہ جلایا گیا، ان کی املاک کو لوٹا گیا اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہ فلم یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کا قتلِ عام کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔
سکھ مخالف بیانیہ
موجودہ مودی حکومت کے دور میں اس فلم پر پابندی اور اسے آن لائن پلیٹ فارمز سے ہٹائے جانے کے عمل کو تجزیہ کار بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک اور طمانچہ قرار دے رہے ہیں۔
ہندوتوا نظریے کے تحت چلنے والی مودی سرکار سکھوں کے خلاف ماضی کی کانگریسی حکومت کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں بھی خالصتان تحریک اور کسان تحریک سے جڑے سکھوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
فلم ستلج پر یہ فوری پابندی ثابت کرتی ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کے اس استحصال کو دنیا کے سامنے آنے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
فلم میں بھارت کے اندر سکھ اقلیت کے حقوق کی مسلسل پامالی اور ان کے خلاف ہونے والی منظم ناانصافیوں کو مضبوط شواہد کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ تاحال سکھ برادری 1984 کے فسادات کے انصاف کے لیے در در کی خاک چھان رہی ہے، جبکہ مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندو قوم پرست گروہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات بلا خوف و خطر چلا رہے ہیں۔
اس فلم پر پابندی نے دنیا بھر میں مقیم سکھ ڈائیسپورا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو طویل عرصے سے بھارت میں اپنے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔