"> سکھوں کے استحصال پر مبنی فلم ستلج پر پابندی، مودی حکومت کا چہرہ بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فلم ستلج پر پابندی: مودی حکومت کا سکھ مخالف چہرہ بے نقاب

فلم ستلج ریلیز کے چند روز بعد ہٹا دی گئی، جس میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات کو موضوع بنایا گیا تھا۔ اقدام پر سنسرشپ اور اظہارِ رائے کی بحث شروع ہو گئی۔
فلم ستلج پر پابندی: مودی حکومت کا سکھ مخالف چہرہ بے نقاب

فلم ستلج کی دستبرداری پر سکھ تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا، 1984 کے واقعات اور سنسرشپ پر سوالات اٹھ گئے۔

July 8, 2026

سکھ برادری کے خلاف بھارتی ریاست کے تاریخی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی فلم ستلج کو ریلیز کے محض دو دن بعد ہی ہٹا دیا گیا ہے۔ مودی حکومت اور ہندو انتہا پسند حلقوں کے دباؤ کے باعث سنسرشپ کا شکار ہونے والی اس فلم میں سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے منظم قتلِ عام، ان کے معاشی و سماجی استحصال اور نئی دہلی کی ریاستی پالیسیوں کو دستاویزی حقائق کے ساتھ آشکار کیا گیا تھا۔

سکھوں کا قتلِ عام

فلم ستلج میں 1984 کے ان بھیانک تاریخی واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پورے بھارت، بالخصوص نئی دہلی میں ہندو بلوائیوں نے کانگریس کی سرپرستی میں سکھ برادری پر زمین تنگ کر دی تھی۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ہزاروں بے گناہ سکھوں کو زندہ جلایا گیا، ان کی املاک کو لوٹا گیا اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہ فلم یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کا قتلِ عام کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

سکھ مخالف بیانیہ

موجودہ مودی حکومت کے دور میں اس فلم پر پابندی اور اسے آن لائن پلیٹ فارمز سے ہٹائے جانے کے عمل کو تجزیہ کار بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک اور طمانچہ قرار دے رہے ہیں۔

ہندوتوا نظریے کے تحت چلنے والی مودی سرکار سکھوں کے خلاف ماضی کی کانگریسی حکومت کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں بھی خالصتان تحریک اور کسان تحریک سے جڑے سکھوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

فلم ستلج پر یہ فوری پابندی ثابت کرتی ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کے اس استحصال کو دنیا کے سامنے آنے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

فلم میں بھارت کے اندر سکھ اقلیت کے حقوق کی مسلسل پامالی اور ان کے خلاف ہونے والی منظم ناانصافیوں کو مضبوط شواہد کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ تاحال سکھ برادری 1984 کے فسادات کے انصاف کے لیے در در کی خاک چھان رہی ہے، جبکہ مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندو قوم پرست گروہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات بلا خوف و خطر چلا رہے ہیں۔

اس فلم پر پابندی نے دنیا بھر میں مقیم سکھ ڈائیسپورا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو طویل عرصے سے بھارت میں اپنے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *