امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کینیڈا اور یورپ کے ساتھ مل کر ایک بڑے بین الاقوامی کریک ڈاؤن کے دوران بھارتی بشنوئی گینگ کے 24 کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی سے کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ریاست کے ملوث ہونے کے شواہد دنیا کے سامنے آ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آپریشن ہارڈ بال کے تحت امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں بیک وقت 50 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے، جس کے دوران بشنوئی گینگ کے 24 بھارتی کارندے دھر لیے گئے، جن میں سے 11 گرفتاریاں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہوئی ہیں۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، منشیات اور نقد رقم بھی برآمد کی گئی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے دائر فردِ جرم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک بھارتی حکومت کے لیے ایک جرائم پیشہ نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے، جو نئی دہلی کی ایما پر شمالی امریکہ اور یورپ میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری جیسی خفیہ کارروائیاں انجام دیتا ہے۔ نجر قتل کیس میں لارنس بشنوئی پر باقاعدہ فردِ جرم عائد ہونے سے اس جرم میں بھارتی سرکار کا گٹھ جوڑ ثابت ہو گیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق جیل میں قید گینگسٹر جگگو بھگوانپوریا کی سربراہی میں کام کرنے والا یہ گروہ بھارت میں بدعنوان قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور ایک سینئر پولیس افسر کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔
یہ نیٹ ورک بیرونِ ملک مقیم افراد کے بھارتی خاندانوں کو بلیک میل کرنے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے کے لیے سرکاری مشینری کا استعمال کرتا تھا، جس کی تصدیق اپریل 2026 میں کیلیفورنیا کے ایک شہری کو دی جانے والی دھمکیوں سے بھی ہوتی ہے۔