ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے جسے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی قبول نہیں۔ دشمن کا اصل مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر صوبے میں انتشار پیدا کرنا ہے۔
بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر اہم پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات ہوئے۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر 42 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے۔
احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ زیارت اور مانگی ڈیم کے علاقوں میں فورسز نے مؤثر کارروائیاں کیں۔ مانگی ڈیم پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں فتنہ الخوارج کے 15 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ زیارت میں بھی پولیس جوانوں کی بہادری سے 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
مزید برآں قومی شاہراہ (این-25) پر جھاو کراس اور کرارو کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 19 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے 11 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ دیگر کارروائیوں میں پولیس کے 9 جوان بھی شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے اور سڑکیں بلاک کر کے بھتہ وصولی کی کوشش کی، لیکن عوام اور سکیورٹی فورسز کے عزم نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں امن کی بحالی اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔