امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف انتہائی سخت اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہزار امریکی میزائل ایران کی جانب نشانہ باندھے بالکل تیار کھڑے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ پیغام میں انہوں نے تہران حکومت کو شدید فوجی کارروائی کا الٹی میٹم دیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے یا اقدامِ قتل کی دھمکی پر عمل کیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر ایران کی جانب سے ایسی کسی بھی دھمکی پر عمل درآمد کی معمولی سی کوشش بھی کی گئی، تو جواب میں ایران پر مزید ہزاروں میزائل داغ دیے جائیں گے۔ امریکی صدر کا یہ جارحانہ ردعمل ان کے خلاف مبینہ ایرانی سازشوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
مذاکرات کی تردید
دوسری جانب، ایران نے امریکی دھمکیوں اور مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنے والی افواہوں پر اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی نئے مرحلے کے مذاکرات کے لیے کوئی درخواست نہیں کی ہے۔
ایرانی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے اس تناظر میں صرف ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے نمائندوں کا دورۂ تہران قبول کیا ہے، تاہم امریکہ سے براہِ راست کسی معذرت خواہانہ یا نئے سفارتی عمل کی اپیل نہیں کی گئی۔