اسلام آباد: پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی حکومتی مہلت ختم ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے 10 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ویزا دستاویزات کے بغیر مقیم تارکینِ وطن کی ڈی پورٹیشن کے عمل میں مزید تیزی لانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ کی جاری کردہ نئی ہدایات کے مطابق اب بغیر کارآمد ویزے اور سفری دستاویزات کے ملک میں مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ اس گرینڈ آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے راولپنڈی سمیت صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں غیر قانونی تارکین کی جیو ٹیگنگ اور جیو فینسنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ڈیجیٹل ڈیٹا کی مدد سے غیر قانونی مقیم افراد کی جلد سے جلد گرفتاریاں عمل میں لائیں۔ اس سلسلے میں 28 جون کو چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ کو باقاعدہ خطوط بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی صرف غیر قانونی تارکین تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ان کی معاونت کرنے والے مقامی افراد کے خلاف بھی سخت ایکشن ہوگا۔ ایسے تمام پاکستانی شہریوں اور جائیداد کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جنہوں نے غیر قانونی افغان شہریوں کو پناہ دی یا انہیں مکانات کرائے پر فراہم کیے۔
کریک ڈاؤن کی سخت مانیٹرنگ کے لیے ایک باقاعدہ نظام وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام صوبائی اور علاقائی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر وفاقی وزارتِ داخلہ کو رپورٹ جمع کرانے کی پابند ہو گی۔ اس رپورٹ میں پکڑے گئے افراد کی تعداد، کی جانے والی کارروائی اور ان کی موجودہ حیثیت کا مکمل ڈیٹا شامل ہوگا۔