تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی دباؤ یا معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی جنگ ایران کے ہتھیار ڈالنے پر ختم نہیں ہوگی۔
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ صرف وہی ملک امریکہ کے ساتھ مؤثر مذاکرات کر سکتا ہے جو جنگ کے لیے بھی ہر وقت تیار ہو۔ نیر انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ نے گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی تو ایران اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا جنگ بندی معاہدے میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹا تو اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر ہی عائد ہوگی۔
باقر قالیباف کے مطابق انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بات چیت کے دوران واضح کر دیا تھا کہ ایران کو امریکہ پر قطعی اعتماد نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کو سفارتی حل کا ذریعہ سمجھا ہے لیکن یہ عمل دھمکی، دباؤ یا طاقت کے استعمال کے سائے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ایرانی قیادت نے لبنان میں جنگ بندی کو بھی اپنے لیے اتنا ہی اہم قرار دیا ہے جتنی خود ایران کی جنگ بندی ہے۔
دیکھیے: ایک ہزار میزائل ایران کی جانب نشانہ باندھے تیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکی