لیک ہونے والی ایک آڈیو کے بعد یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کی صفوں میں نسلی امتیاز، بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات کے باعث داخلی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تاہم، اس مبینہ آڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آڈیو میں طالبان انتظامیہ کے اندر رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بدعنوانی جیسے سنگین معاملات کا تذکرہ موجود ہے۔ یہ الزامات طالبان کے اندرونی تنظیمی ڈھانچے اور ان کی فیصلہ سازی کی کمزوریوں کو نمایاں کرتے ہیں۔
A leaked audio recording, purportedly captures a conversation between two individuals said to be members of the Taliban, one reportedly affiliated with the group's internal security apparatus and the other assigned to a unit responsible for protecting emerald mines in Badakhshan.… pic.twitter.com/jkAEXHX0nH
— South Asia Times (@_southasiatimes) July 13, 2026
سامنے آنے والے ان حقائق سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تحریک کے اندر غیر مساوی سلوک اور نسلی ترجیحات کے الزامات نے جنم لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان دعوؤں کی وجہ سے صفوں میں باہمی اعتماد کا بحران پیدا ہو سکتا ہے جو داخلی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کا سبب بنے گا۔
آڈیو میں کیے گئے دعوؤں کے مطابق نسلی جانبداری اور بدعنوانی کے الزامات طالبان کی داخلی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگرچہ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں اور آڈیو کی صداقت کی تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی، لیکن اس مبینہ انکشاف کو خطے کے سیاسی منظر نامے میں اہمیت دی جا رہی ہے۔