اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں شدید غذائی قلت کے روایتی موسم کے آغاز سے قبل ہی 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 37 لاکھ بچوں کو سنگین غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کے مطابق ملک میں 6 سے 59 ماہ کی عمر کے 47 فیصد بچے درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔
افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں 37 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا پر مبنی اس سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 صوبوں میں بچوں کی غذائی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے، جو ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 فیصد کم عمر افغان بچے شدید غذائی غربت کا شکار ہیں، جنہیں روزانہ صرف ایک یا دو اقسام کی خوراک میسر ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ 2 سال سے کم عمر بچوں کو ہے، جہاں شدید غذائی قلت کے 83 فیصد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
یونیسیف نے واضح کیا کہ فنڈز کی کمی کے باعث افغانستان بھر میں سینکڑوں صحت اور غذائیت کے مراکز اپنی خدمات بند یا محدود کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ادارے نے عالمی برادری سے بچوں کی جانیں بچانے کے لیے فوری اور لچکدار مالی امداد کی اپیل کی ہے۔