جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے گوجرانوالہ کی مقامی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج و جسٹس آف پیس گوجرانوالہ، فیصل جمیل کی عدالت میں منظور قادر بھنڈر ایڈوکیٹ کی جانب سے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 22-اے اور 22-بی کے تحت ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس میں مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے دائر کردہ درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے پولیس حکام (ایس ایچ او و دیگر فریقین) سے اس معاملے پر تفصیلی تبصرے اور رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ متعلقہ فریقین 28 جولائی 2026 تک اپنے جوابات اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
یاد رہے کہ دو روز قبل مولانا فضل الرحمٰن نے قصور میں یہ متنازع بیان دیا تھا، جس کے بعد عوامی، سیاسی اور صحافتی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مختلف حلقوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے اس حالیہ بیان پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وطنِ عزیز کے محافظوں اور شہدا کی بے مثال قربانی کو محض چند ہزار روپے کی تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا انتہائی افسوسناک اور قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کی توہین ہے۔