اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے سن لی نے ایران پر امریکی حملوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے اپنی یکطرفہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔
چینی سفیر نے یہ دوٹوک بیان اقوامِ متحدہ میں ہونے والی ایک اہم نشست کے دوران دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر امریکی فوجی کارروائیاں خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہی ہیں، جو عالمی امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
چینی سفیر کا یہ سخت ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندے مائیک والٹز نے اجلاس میں چین پر الزام عائد کیا کہ بیجنگ ایران اور یمن تک جنگی و دیگر سامان کی فراہمی کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔
سفیر سن لی نے امریکی الزام کو یکسر اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنی برآمدات پر انتہائی سخت نگرانی رکھتا ہے اور اس تجارتی عمل میں تمام متعلقہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
چینی مندوب کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم اور فوری ضرورت یہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں نئے تنازعات اور بدامنی کے طوفان کھڑے کرنے کے بجائے زمینی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوجی طاقت کے وحشیانہ استعمال کے بجائے سفارت کاری، سیاسی مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا راستہ اختیار کرنا ہی واحد حل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے بعد سلامتی کونسل اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اختلافات اب مزید کھل کر سامنے آ رہے ہیں، جہاں چین مسلسل سیاسی حل پر زور دے رہا ہے جبکہ امریکا فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر بضد ہے۔