افغانستان میں طالبان کے زیرِ سایہ خواتین کے لیے اب جینے کا حق بھی شدید خطرے میں پڑ چکا ہے۔ پہلے سے جاری تعلیم اور روزگار کی بندش کے بعد اب ملک میں خواتین کا تحفظ انتہائی دگرگوں ہے۔
تازہ ترین واقعے میں صوبہ بادغیس کی 14 سالہ کم سن لڑکی نازگل کو مبینہ طور پر جبری شادی کے چند ہی روز بعد گلا دبا کر بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق نازگل کو اس کے خاندان نے زبردستی 63 سالہ معمر شخص کے نکاح میں دیا تھا، جو بادغیس میں طالبان کا مقامی میئر ہے اور یہ اس کی چوتھی شادی تھی۔
https://www.instagram.com/reel/DaxWml4xTOK/?utm_source=ig_web_copy_link&igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر نازگل کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر مبینہ طور پر اس کے بوڑھے شوہر نے غصے میں آ کر اسے گلا دبا کر قتل کر دیا۔
اس لرزہ خیز واقعے کی خبر عام ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور صارفین کی جانب سے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ جبری شادیوں کا یہ بھیانک رجحان افغان بچیوں کو نگل رہا ہے، جس پر فوری عالمی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔