امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد شہروں میں شدید دھماکے سنے گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں سیریک، اہواز، چابہار، بندر عباس اور جزیرہ قیشم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حالیہ امریکی حملوں کے نتیجے میں اب تک 7 ایرانی فوجی اور 30 عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 260 سے تجاوز کر گئی ہے۔ گورنر ہرمزگان کے مطابق جزیرہ قیشم میں ایک مچھلی کا سفوف (فش پاؤڈر) بنانے والی فیکٹری پر بھی بمباری کی گئی، تاہم فیکٹری خالی ہونے کے باعث وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران پر حملوں کا تازہ ترین مرحلہ مکمل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون تنصیبات اور ساحلی نگرانی کے مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ بندر عباس سمیت دیگر علاقوں میں ان حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی اس فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور بین الاقوامی جہازوں کے لیے خطرے کا باعث بن رہی تھی۔