نئی دہلی: بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر عالمی میڈیا نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے ماہرین غیر مؤثر قانونی نظام کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2010 کے بعد سے بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں دوگنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں روزانہ اوسطاً 80 سے زائد خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 2024 کے دوران خواتین سے زیادتی کے 29,536 مقدمات درج ہوئے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ بھارتی معاشرے میں پولیس اور عدلیہ کی بے حسی اور ذات پات کے نظام نے بھارتی خواتین کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
بھارتی سماجی کارکن رنجنا کماری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بھارت میں جرم کے بعد انصاف میں تاخیر اور سزا سے بچ نکلنے کے باعث مجرموں میں قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ بھارتی وکیل کرونا نونڈی کے مطابق بھارتی حکومت نے مسئلے کی جڑ، یعنی خواتین کے خلاف نفرت پر توجہ نہیں دی
دیکھیے: طالبان بھارت گٹھ جوڑ: بھارتی وی لاگر کو کابل میں پاکستان مخالف پراپیگنڈے کی کھلی چھوٹ