طالبان کی جانب سے ماضی میں ایک ہی ڈی این اے کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر اب طالبان انتظامیہ نے اس نعرے کو باقاعدہ اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی کے طور پر ایک بھارتی وی لاگر کو کابل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں خصوصی پروٹوکول فراہم کیا گیا ہے۔
طالبان کی جانب سے اس بھارتی وی لاگر کے دورے کے لیے نہ صرف ریڈ کارپیٹ بچھایا گیا، بلکہ اسے انتہائی حساس مقامات پر فول پروف سکیورٹی بھی مہیا کی گئی۔ یہی نہیں، بلکہ اسے پاکستان مخالف پراپیگنڈے پر مبنی رہنمائی کے تحت مخصوص مقامات کا دورہ کروایا گیا تاکہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے من پسند مواد تیار کیا جا سکے۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق جب کسی ملک کا نظامِ حکومت پڑوسی ملک کی معلوماتی جنگ کے لیے خام مال تیار کرنے کا ذریعہ بن جائے، تو پھر اس کی ترجیحات پر کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔
بھارتی وی لاگر کے حالیہ دورے سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف بھارت کی ہائبرڈ جنگ کے لیے ایک اہم مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی ایک سینئر افغان وزیر نے اپنے دورۂ بھارت کے موقع پر بیان دیا تھا کہ افغان عوام اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔ اس بیان کے بعد اب زمینی حقائق اور بھارتی پراپیگنڈا مہم کو سرکاری سرپرستی ملنے سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ نئی دہلی اور کابل اب کھل اپنے تعلقات اور پاکستان مخالف سرگرمیاں کر رہے ہیں۔