چھ دن کی مسلسل بمباری، آبنائے ہرمز میں ایک کے بعد ایک حملہ، اور خطے کے مختلف ممالک ایک ایسی جنگ کی زد میں جو نہ ان کی شروع کردہ ہے، نہ ان کے کنٹرول میں۔ یہ منظرنامہ نیا نہیں، لیکن اس بار جو چیز توجہ طلب ہے وہ خود اس جنگ کے فریقین کی زبان سے سامنے آنے والے تضادات ہیں۔
فروری 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والا یہ تنازع، اپریل میں جنگ بندی اور جون میں ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تک پہنچا۔ لیکن معاہدے پر دستخط کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملہ کر دیا۔ جن میں ایک قطری ٹینکر بھی شامل تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے یہ معاہدہ کمزور ہونا شروع ہوا۔
اس کے بعد وہی ہوا جو میں اور آپ سوچ رہے تھے: امریکی حملے، ایرانی کارروائی اور بار بار نشانہ بننے والے وہی ممالک جن کا اس تنازع سے دور تک کوئی تعلق نہیں کویت، بحرین، قطر، اردن، عمان۔ صرف ایک ہفتے کے دوران ان تمام ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قطر، جو اس تنازع میں پاکستان کے کندھے سے کندھا ملائے ثالثی کر رہا ہے،وہی متاثرین میں شامل ہے۔ عمان، جو خود ثالث ہے اور جس نے حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرِ خارجہ کی میزبانی کی تھی، پر بھی حملہ ہوا۔
یہاں ایک سیدھا سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر خلیجی ممالک پر حملوں کی دلیل یہ ہے کہ وہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، تو ایران کا رخ اسرائیل کی طرف کیوں نہیں مڑتا جبکہ ایران کو سب سے زیادہ نقصان خود اسرائیل نے پہنچایا، بشمول سپریم لیڈر کی ہلاکت کے۔ لیکن یہ سوال اٹھایا جانا خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس تنازع کی منطق اتنی سیدھی نہیں جتنی بیان کی جاتی ہے۔
یہیں سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا وہ مشکوک کردار سامنے آتا ہے جس نے شام، عراق اور یمن کو اپنی نظریاتی بنیادوں پر عدم استحکام کا شکار کیا۔ اسلامیہ اسلامیہ اور اتحاد کے نعروں کے برعکس، یہ فوج مسلم ممالک کے اندرونی استحکام کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ابھی ایرانی سپریم لیڈر کا جسدِ خاکی لحد میں اترا بھی نہیں تھا کہ تہران نے ان عرب ممالک پر میزائل برسا دیے جنہوں نے تعزیتی رسومات میں شرکت کی تھی۔
اس بدعہدی کے عمل نے واضح کر دیا کہ تہران عرب دنیا کے سفارتی ہاتھ کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مارچ 2026 میں آبنائے ہرمز کی بندش اور حالیہ مہم جوئی کی وجہ سے پاسداران انقلاب کی عسکری مہمات اور سب کے سامنے آ چکی ہیں، ماضی میں شام، عراق، لبنان اور لیبیا میں پھر پاکستان میں دیکھا جائے زینبییون ،فاطمییون بریگیڈ کا کردار سب کے سامنے ہے ۔
اسی طرح دوسری جانب ایران اور پاسداران کے بجائے اسرائیل و امریکہ کی طرف رُخ کریں تو پورے منظرنامے کا سب سے حیران کن پہلو خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی زبان سے سامنے آیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے یہ ایک سادہ اور واضح حقیقت ہے، ٹرمپ خود بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ایک خفیہ اور بھاری فنڈنگ والی مہم چلائی تاکہ جنگ، بقول ان کے، کسی مقصد کے بغیر، غیر معینہ مدت تک جاری رہے۔ یہ کوئی عام یا معمولی الزام نہیں یہ امریکی نائب صدر کا اپنے ملک کے قریب ترین اتحادی پر عوامی سطح پر لگایا گیا الزام ہے۔
نیز علی لاریجانی کا الجزیرہ کو دیا گیا انٹرویو، جس میں کہا تھا کہ اسرائیل خود کو مذاکراتی عمل میں شامل کر کے بات چیت سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فریقین کی زبان سے ایک جیسا الزام سامنے آنا بذاتِ خود قابلِ غور ہے، چاہے اسے حتمی ثبوت نہ سمجھا جائے۔
اس تمام کے درمیان، حقیقی قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی بلاواسطہ تعلق نہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی سمندری تیل کی تجارت گزرتی ہے، بار بار بند ہو رہی ہے۔ عام شہری، تجارتی جہازوں کا عملہ، اور خطے کی معیشتیں یہ سب اس جنگ کا اصل ایندھن بن چکے ہیں، جبکہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ اس جنگ میں کون صحیح ہے اور کون غلط۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں بڑی طاقتیں امریکی نائب صدر اور ایران کی سلامتی کونسل دونوں ایک تیسرے فریق پر سبوتاژ کا الزام لگا رہے ہوں، تو خطے کے چھوٹے ممالک، جن کے پاس نہ ایٹمی ہتھیار ہیں نہ عالمی سطح پر آواز، کیوں بار بار میدانِ جنگ بنتے جا رہے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ابھی تک کسی کے پاس نہیں۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ ہمیشہ کی طرح فیصلے کرنے والے محفوظ فاصلوں پر بیٹھے ہیں، جبکہ اس آگ کا ایندھن ہمیشہ مسلم ممالک اور ان کے عوام ہی بنتے ہیں۔