بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ تحریک کے سینکڑوں حامی پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوگئے۔ پولیس نے اس احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، تاہم مظاہرین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔
مظاہرین نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ تحریک نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دی جا رہی ہے۔
تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ہفتے کے روز پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ہزاروں افراد جنتر منتر پہنچ گئے تاکہ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے روز احتجاجی مارچ میں شرکت کر سکیں۔
جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات اور رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئیں۔
مظاہرین دھرمیندر پردھان استعفی دو اور نریندر مودی استعفیٰ دو کے نعرے لگاتے رہے۔
یاد رہے کہ یہ تحریک مئی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے باعث 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔
میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن کا کہنا تھا کہ طلبہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے سلسلے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اتر پردیش کے ضلع امروہہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ محمد تبریز نے بھی امتحانی نظام میں بدعنوانی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔
تحریک کو آغاز ہی میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی ملی۔ چند دنوں میں اس کے انسٹاگرام پر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز ہوگئے۔
بعد ازاں بعض اپوزیشن جماعتوں نے بھی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے گزشتہ ماہ سے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر دھرنا دے رہے ہیں۔
سماجی کارکن سونم وانگچک نے 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔
پیر کے روز ہسپتال سے جاری اپنے تحریری پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرے تو وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مظاہرین کو پارلیمنٹ تک رسائی دی جائے اور ارکانِ پارلیمنٹ معاملہ ایوان میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائیں، تو بھی وہ ہڑتال ختم کرنے کو تیار ہیں۔