لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بھارت میں پابندی کے باوجود کاکروچ تحریک کا پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع

پابندی کے باوجود نئی دہلی میں کاکروچ تحریک کے سینکڑوں حامی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی جاری۔
بھارت میں پابندی کے باوجود کاکروچ تحریک کا پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع

بھارت میں کاکروچ تحریک کے حامیوں کا پولیس پابندی کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب مارچ، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال جاری۔

July 20, 2026

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ تحریک کے سینکڑوں حامی پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوگئے۔ پولیس نے اس احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، تاہم مظاہرین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ تحریک نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دی جا رہی ہے۔

تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ہفتے کے روز پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ہزاروں افراد جنتر منتر پہنچ گئے تاکہ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے روز احتجاجی مارچ میں شرکت کر سکیں۔

جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات اور رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئیں۔

مظاہرین دھرمیندر پردھان استعفی دو اور نریندر مودی استعفیٰ دو کے نعرے لگاتے رہے۔

یاد رہے کہ یہ تحریک مئی میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہو گیا تھا۔ اس واقعے کے باعث 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔

میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن کا کہنا تھا کہ طلبہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے سلسلے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اتر پردیش کے ضلع امروہہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ محمد تبریز نے بھی امتحانی نظام میں بدعنوانی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔

تحریک کو آغاز ہی میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی ملی۔ چند دنوں میں اس کے انسٹاگرام پر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز ہوگئے۔

بعد ازاں بعض اپوزیشن جماعتوں نے بھی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے گزشتہ ماہ سے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر دھرنا دے رہے ہیں۔

سماجی کارکن سونم وانگچک نے 28 جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

پیر کے روز ہسپتال سے جاری اپنے تحریری پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرے تو وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مظاہرین کو پارلیمنٹ تک رسائی دی جائے اور ارکانِ پارلیمنٹ معاملہ ایوان میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائیں، تو بھی وہ ہڑتال ختم کرنے کو تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *