جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن شہداء سے متعلق اپنے حالیہ متنازع بیانات اور اقتدار پر مرکوز سیاست کی وجہ سے شدید سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔
مختلف مذہبی، سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شہدائے پاکستان کے احترام پر یکساں مؤقف اپناتے ہوئے ان کے بیانات پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور ان کی جماعت کے خلاف شخصی محاذ آرائی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن ایک طرف حافظ طاہر اشرفی کو سیاسی طور پر بے حیثیت قرار دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے خلاف مسلسل مہم چلا رہے ہیں، جو ان کے اپنے ہی دعوے کی نفی کرتا ہے۔
گزشتہ برس بھی ان کی جانب سے چلائی گئی مخالفت کی مہم کوئی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی، اور اب دوبارہ اسی شخصی محاذ آرائی کو شروع کرنا سیاسی بصیرت کے بجائے ذاتی ناراضی اور سیاسی بوکھلاہٹ کا تاثر دے رہا ہے۔
ادھر مذہبی حلقوں کی جانب سے شہداء کی حرمت کے معاملے پر حافظ طاہر اشرفی کے مؤقف کی وسیع پیمانے پر پذیرائی کی گئی ہے۔ مولوی عبدالصمد حقانی کے حالیہ بیان کے مطابق ملک بھر میں مدارس کے پندرہ وفاقوں میں سے تیرہ وفاقوں نے شہداء کے معاملے پر حافظ طاہر اشرفی کے اصولی مؤقف کی کھل کر تائید کی ہے، جبکہ باقی ماندہ دو وفاقوں نے بھی اس مؤقف کی کوئی مخالفت نہیں کی، جس سے جمیعت علمائے اسلام کا بیانیہ مذہبی طور پر کمزور اور غیر مؤثر ثابت ہوا ہے۔
عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہدائے پاکستان کسی سیاسی جماعت یا مذہبی شخصیت کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فخر ہیں۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاملہ کسی فردِ واحد کا نہیں بلکہ قومی احساسات کا ہے۔
مبصرین کے مطابق حافظ طاہر اشرفی پر ذاتی غصہ نکالنے یا حملے کرنے سے مولانا فضل الرحمٰن کے اپنے بیان پر اٹھنے والے سنگین سوالات ختم نہیں ہوں گے، بلکہ سیاسی قیادت کو ذاتی حملوں کے بجائے اپنے الفاظ کی قوم کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے۔