لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے متنازع بیانات؛ مذہبی حلقوں نے طاہر اشرفی کے مؤقف کی تائید کر دی

شہداء سے متعلق متنازع بیانات پر مولانا فضل الرحمٰن کو شدید تنقید اور سیاسی تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ مدارس کے اکثریتی وفاقوں نے حافظ طاہر اشرفی کے مؤقف کی تائید کر دی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے متنازع بیانات

شہدائے پاکستان کے احترام کے معاملے پر مولانا فضل الرحمٰن متنازع بیانات کے باعث سیاسی تنہائی کا شکار ہیں، جبکہ مذہبی مدارس نے حافظ طاہر اشرفی کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔

July 20, 2026

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن شہداء سے متعلق اپنے حالیہ متنازع بیانات اور اقتدار پر مرکوز سیاست کی وجہ سے شدید سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔

مختلف مذہبی، سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شہدائے پاکستان کے احترام پر یکساں مؤقف اپناتے ہوئے ان کے بیانات پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور ان کی جماعت کے خلاف شخصی محاذ آرائی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن ایک طرف حافظ طاہر اشرفی کو سیاسی طور پر بے حیثیت قرار دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے خلاف مسلسل مہم چلا رہے ہیں، جو ان کے اپنے ہی دعوے کی نفی کرتا ہے۔

گزشتہ برس بھی ان کی جانب سے چلائی گئی مخالفت کی مہم کوئی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی، اور اب دوبارہ اسی شخصی محاذ آرائی کو شروع کرنا سیاسی بصیرت کے بجائے ذاتی ناراضی اور سیاسی بوکھلاہٹ کا تاثر دے رہا ہے۔

ادھر مذہبی حلقوں کی جانب سے شہداء کی حرمت کے معاملے پر حافظ طاہر اشرفی کے مؤقف کی وسیع پیمانے پر پذیرائی کی گئی ہے۔ مولوی عبدالصمد حقانی کے حالیہ بیان کے مطابق ملک بھر میں مدارس کے پندرہ وفاقوں میں سے تیرہ وفاقوں نے شہداء کے معاملے پر حافظ طاہر اشرفی کے اصولی مؤقف کی کھل کر تائید کی ہے، جبکہ باقی ماندہ دو وفاقوں نے بھی اس مؤقف کی کوئی مخالفت نہیں کی، جس سے جمیعت علمائے اسلام کا بیانیہ مذہبی طور پر کمزور اور غیر مؤثر ثابت ہوا ہے۔

عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہدائے پاکستان کسی سیاسی جماعت یا مذہبی شخصیت کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فخر ہیں۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاملہ کسی فردِ واحد کا نہیں بلکہ قومی احساسات کا ہے۔

مبصرین کے مطابق حافظ طاہر اشرفی پر ذاتی غصہ نکالنے یا حملے کرنے سے مولانا فضل الرحمٰن کے اپنے بیان پر اٹھنے والے سنگین سوالات ختم نہیں ہوں گے، بلکہ سیاسی قیادت کو ذاتی حملوں کے بجائے اپنے الفاظ کی قوم کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *