ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کا ناکام ہونا اور سفارتی رفت کا معطل ہونا خلیج کے خطے کو ایک بار پھر شديد غیر یقینی اور عسکری محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ تاریخ اور زمینی حقائق نے بارہا ثابت کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی یا وقتی انتظامات کبھی بھی پائیدار سیاسی حل کا متبادل نہیں بن سکتے۔
جب بھی خلیج میں کشیدگی جنم لیتی ہے، اس کے اثرات محض چند ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیاں متزلزل ہوتی ہیں، بحری گزرگاہوں کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے، شپنگ و انشورنس کے اخراجات بڑھتے ہیں اور علاقائی ترقی کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے۔
موجودہ بحران اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ صرف عسکری دباؤ، اقتصادی پابندیاں یا طاقت کا مظاہرہ طویل المدتی و اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں ناکام رہتا ہے۔ نہ امریکہ طاقت کے زور پر اپنے تمام مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے اور نہ ہی ایران صرف مزاحمتی حکمت عملی سے تمام مسائل حل کر سکتا ہے۔ پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے سفارت کاری اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
اس پیچیدہ اور حساس صورتحال میں پاکستان نے جو تعمیمی اور سفارتی کردار ادا کیا ہے، وہ انتہائی اہم اور قابلِ تحسین ہے۔ اسلام آباد نے گروہی سیاست یا کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام فریقین کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور تنازع کو عسکری تصادم کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔
پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے تہران اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے ساتھ مسلسل مشاورت کی، دورے کیے اور ٹیلی فونک سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی مخلصانہ کوشش کی۔
پاکستان کی اس متوازن اور غیر جانبدارانہ سفارت کاری کو محض اس لیے ناکام قرار نہیں دیا جا سکتا کہ بنیادی فریقین کسی حتمی معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔ کسی بھی ثالث کا کام مذاکرات کا ماحول پیدا کرنا اور راستے ہموار کرنا ہوتا ہے، وہ خودمختار ریاستوں پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا۔ خلیج سے لے کر افغانستان تک پاکستان نے ہمیشہ ایک متوازن رابطہ کار کے طور پر اپنی ساکھ قائم کی ہے، جس کی اصل طاقت دباؤ نہیں بلکہ تمام فریقین کا اعتماد اور غیر جانبدارانہ رسائی ہے۔
اب اصل ذمہ داری ایران اور امریکہ کے سیاسی تدبر پر عائد ہوتی ہے۔ ایران، جس نے دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود معاشی و عسکری مزاحمت کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، اب ایک مضبوط علاقائی فریق کی حیثیت سے اعتماد کے ساتھ مذاکرات کر سکتا ہے۔ دنیا کے چوتھے بڑے تیل اور دوسرے بڑے گیس کے ذخائر نیز خلیج، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث ایران کے پاس عظیم معاشی امکانات موجود ہیں۔ دائمی محاذ آرائی کے بجائے علاقائی رابطہ کاری، سرمایہ کاری اور تجارت کا فروغ تہران کے لیے کہیں زیادہ سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کو بھی اپنی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی کو اپنی عالمی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن ایک دہائی سے انڈو پیسفک کو اپنے اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز قرار دیتا آیا ہے، مگر خلیج کا ہر نیا بحران امریکی فوجی و مالی وسائل کو دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ایک مستحکم اور پرامن خلیج امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے لامتناہی معاشی و عسکری دلدل سے نکال کر اپنی بنیادی عالمی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
سال 2001 کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطہ کھربوں ڈالر کے معاشی نقصان، لاکھوں انسانوں کی بے گھری اور شدید عدم استحکام کی صورت میں مسلسل جنگوں کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ مزید کسی بھی تصادم کا مطلب خطے کے عوام کو تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے محروم رکھنا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ خلیج کے مستقبل کا سکیورٹی ڈھانچہ دائمی دباؤ یا عسکری تحرک کے بجائے اسٹریٹجک توازن اور باہمی مفاہمت پر استوار ہونا چاہیے۔ پاکستان کی بروقت اور متوازن سفارت کاری نے ثابت کیا ہے کہ مذاکرات ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ایران اور امریکہ جیسے بنیادی فریقین سیاسی جرات کا مظاہرہ کریں اور بار بار کے بحرانوں کی جگہ تعاون، تجارتی رابطہ کاری اور سفارت کاری پر مبنی نئے علاقائی توازن کو ترجیح دیں۔