امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہش مند تو نظر آتا ہے لیکن فی الحال عملی طور پر تیار نہیں ہے، اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے اس کی شدید اور بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
منیلا میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے تاخیر کی پالیسی خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے اور موجودہ حالات میں اس کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
مارکو روبیو نے ایران پر عہدو پیمان کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کا ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ جب بھی کوئی معاہدہ کرتا ہے، یا تو اسے توڑ دیتا ہے یا پھر اس کی شرائط تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ جاری کشیدگی کی وجہ سے ایران کی دفاعی و صنعتی صلاحیت بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ اس کے ریڈار نظام اور میزائل لانچرز مسلسل تباہ ہو رہے ہیں، جبکہ معیشت کو اربوں ڈالر کا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
یمن کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ حوثی باگی بالآخر کشیدگی میں کمی لائیں گے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ حوثیوں کو ایران نے اپنے مفادات کی خاطر گمراہ کر رکھا ہے۔