لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

!بلوچستان کے کالے بچھو

بلوچستان میں دہشت گردی کا دائرہ اب صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا، ڈاکٹرز، صحافیوں اور وکلا کے بعد اب ججز بھی براہِ راست حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔
بلوچستان کے کالے بچھو!

مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین محمد زمان شہید، ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مذمت، وکلا برادری کا احتجاج اور ہڑتال۔

July 23, 2026

کرہ ارض پر ویسے تو بہت سے زہریلے جانور اور رینگتے کیڑے موجود ہیں ۔۔ جنہیں نہ پالا جاسکتا ہے نہ ہی انہیں دیکھ کر آپ کو پیار محسوس ہوتا ہے ۔۔ انہی کیڑوں میں سے ایک کیڑا بچھو ہے ۔۔ بچھے کے لیے مشہور ہے کہ یہ ایک ایسا بے وفا یا بے مروت اور زہریلا کیڑا ہے جسے ڈسنے کے لیے اگر کوئی نہ ملے تو وہ اپنے ہی سر پر ڈنک مار کر مرجاتا ہے ۔۔

لیکن ان کیڑوں اور جانوروں کا کیا ،، جو انسان کے بھیس میں لوگوں کو ڈس بھی رہے ہیں اور خود اپنی برادری کا استحصال بھی کر رہے ہیں ۔۔

یہ ثابت کرنے کے لیے گزشتہ کئی برس سے بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیاں دنیا بھر کے سامنے ہے۔۔

یہ درندے پہلے تو باہر سے آنے والوں کو نشانہ بناتے رہے ۔۔ لیکن اب اپنے ہی گھر کے لوگوں کو ڈس رہے ہیں ۔۔ ڈاکٹرز، صحافیوں اور وکلا کے بعد اب ججز بھی براہِ راست حملوں کی زد میں آگئے ہیں ۔۔ ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین محمد زمان شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق دونوں ججز جمعرات کو کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ ولی خان تھانے کی حدود میں ریلوے پھاٹک کے قریب مسلح افراد نے ان کی گاڑیوں پر فائرنگ کر دی۔ حملے کے فوراً بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ زخمی جج کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کو “ریاست پر حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔

واقعے کے بعد بلوچستان کی وکلا برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بار کونسل اور دیگر وکلا تنظیموں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے جمعہ اور ہفتہ کو بھی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مستونگ پہلے ہی بدامنی کی شدید لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کھڈ کوچہ میں دھماکے سے ایک پل کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مسافر بس پر فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل اسی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) قبول کر چکی ہے، جس کے بعد علاقے میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کھڈ کوچہ میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جو بلوچستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری شورش کے دوران اپنی نوعیت کا غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ کرفیو کے باعث باغات میں تیار پھل منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کا تعلق ضلع قلعہ سیف اللہ سے تھا، تاہم وہ طویل عرصے سے کوئٹہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے لا کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 1998 میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی حیثیت سے عدالتی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں وہ ترقی کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے تک پہنچے اور تقریباً ایک سال قبل مستونگ میں تعینات ہوئے تھے۔ عدالتی حلقوں میں انہیں ایک تجربہ کار اور باوقار جج کے طور پر جانا جاتا تھا۔

عبدالحکیم کاکڑ کی زندگی دہشت گردی کے اثرات سے پہلے بھی متاثر ہو چکی تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی جمال عبدالناصر ایڈووکیٹ 2016 میں سول ہسپتال کوئٹہ میں وکلا پر ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔ تازہ حملے نے ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا دائرہ اب صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاستی اداروں اور انصاف کے نظام سے وابستہ شخصیات بھی مسلسل نشانے پر آ رہی ہیں۔

یہ بچھو نما زہریلے انسان بہت تیزی کے ساتھ معاشرے میں زہر افشانی کر رہے ہیں ، اور آج نہیں تو کل یہ زہر ان رگوں تک بھی پہنچے گا جو ان کالے بچھوؤں کو پال رہے ہیں ۔۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *