امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی میں انتہائی شدت آ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور بحرین میں امریکی کمپنی کے ڈیٹا سینٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی بمباری سے ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر افراد صوبہ خوزستان، ہرمزگان اور سیستان و بلوچستان میں متاثر ہوئے۔ دوسری جانب صوبہ گیلان میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری تنصیب کو بھی امریکی میزائلوں سے نشانہ بنانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں واقع امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو جوابی کارروائی میں تباہ کر دیا گیا ہے، کیونکہ یہ مرکز امریکی فوج کو معلومات فراہم کر رہا تھا۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم یہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ہدف بنانے کا پہلا واقعہ ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے تمام فوجی اڈے اور تنصیبات جائز اہداف ہیں، جبکہ امریکی کارروائیوں میں سہولت کاری فراہم کرنے والے ممالک کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس شدت سے خطے میں تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے زیرِ استعمال تمام فوجی اڈے اس کی نظر میں جائز اہداف ہیں، جبکہ امریکپ کی معاونت کرنے والے ممالک کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا کہ امریکی میزائلوں نے زیباکنار میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جس میں بعض آلات کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دیکھیے: ایک آنکھ کے بدلے پورا جسم: ایران کا امریکہ کو سخت انتباہ