آپ کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ ہے جس پر آپ کا مستقبل لکھا ہے، مگر آپ اسے پڑھ ہی نہیں سکتے۔ آپ کے سامنے دوا کا پیکٹ ہے، لیکن ہدایات سمجھ نہیں آتیں۔ بینک کی دستاویز ہے، مگر الفاظ اجنبی لگتے ہیں۔ ووٹ دینے کا حق ہے، لیکن معلومات تک رسائی محدود ہے۔ یہ صرف پڑھ نہ سکنے کا مسئلہ نہیں، یہ اپنے فیصلوں، حقوق اور مواقع تک رسائی کھو دینے کا مسئلہ ہے۔
آج دنیا بھر میں عالمی یومِ خواندگی منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی محض حروف پہچاننے یا اپنا نام لکھ لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو معلومات سمجھنے، سوال اٹھانے، فیصلے کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اسی لیے تعلیم اور خواندگی کو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی اینٹ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں یہ دن محض تقریبات اور سیمینارز تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں آج بھی ایسے بچے موجود ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں مزدوری کر رہے ہیں، ایسے نوجوان ہیں جو تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ایسے بالغ افراد بھی ہیں جنہیں بنیادی خواندگی حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ دیہی علاقوں، کم آمدن والے خاندانوں اور خصوصاً لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع کی کمی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
مسئلہ صرف اسکولوں کی تعداد کا بھی نہیں۔ ایک بچہ اگر اسکول تو پہنچ جائے لیکن اسے معیاری تعلیم نہ ملے، اساتذہ کی کمی ہو، کتابیں دستیاب نہ ہوں یا گھر کے معاشی حالات اسے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہ دیں تو محض داخلہ خواندگی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں تو خواندگی کا مفہوم مزید وسیع ہو چکا ہے؛ اب ضروری ہے کہ انسان صرف کتاب پڑھنا ہی نہ جانے بلکہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کو پرکھنے، جعلی خبروں کو پہچاننے اور ٹیکنالوجی کو درست طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
عالمی یومِ خواندگی کا اصل پیغام یہی ہے کہ تعلیم کسی خاص طبقے کی سہولت نہیں بلکہ ہر انسان کا حق ہے۔ ایک پڑھا لکھا فرد صرف اپنی زندگی نہیں بدلتا، وہ اپنے خاندان کے فیصلوں، بچوں کے مستقبل اور پورے معاشرے کی سمت پر اثر ڈالتا ہے۔ ایک کتاب ہاتھ میں آنے سے شاید دنیا فوراً نہ بدلے، مگر ایک ذہن کے کھلنے سے ایک پوری نسل ضرور بدل سکتی ہے۔
میرے نزدیک خواندگی کو صرف شرحِ خواندگی کے اعداد و شمار میں نہیں ناپنا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان کا ہر بچہ کتاب پڑھ سکے، ہر نوجوان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکے اور ہر شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ سکے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ہر دن یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کتنے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں، اور کتنے لوگوں کو ابھی بھی لفظوں کی دنیا سے باہر چھوڑ رہے۔
دیکھیے: خیبرپختونخوا: 627 سرکاری اسکول بند، تعلیمی نظام کے لیے سنگین چیلنج