سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران حوثیوں سے منسلک فوجی ٹھکانوں اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی اتحاد کے مطابق الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بندرگاہیں جہاز رانی کے لیے معمول کے مطابق کھلی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات سے تھا۔ اتحاد نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے الحدیدہ اور جزیرہ کمران پر فضائی حملے کیے۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی دعویٰ کیا کہ الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثی ترجمان نے کمران جزیرے پر حملے میں ایک خاتون کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی، جبکہ حوثی قیادت نے اس کارروائی کو سنگین نتائج کا باعث بننے والا اقدام قرار دیا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل حوثی جماعت انصاراللہ نے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انصاراللہ کے مطابق مذکورہ ٹینکروں نے ان کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
چھ روز قبل انصاراللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور یمن پر عائد محاصرے کے جواب میں کیا گیا اقدام قرار دیا گیا۔ حوثی ترجمان محمد عبدالسلام نے واضح کیا کہ یہ ناکہ بندی باب المندب کی مکمل بندش نہیں بلکہ صرف سعودی عرب سے متعلق بحری سرگرمیوں تک محدود ہے۔
دیکھیے: ایران کا امریکی حملوں میں جانی نقصان اور ایمیزون ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ