بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

July 25, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے کے تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے۔

July 25, 2026

بھارت میں طلبہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لے آیا، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے قبول کر لیا۔

July 25, 2026

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی آپریشن العزم کے تحت کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ٹھکانے تباہ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہو گئی۔

July 25, 2026

سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے حدیدہ میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ حوثیوں نے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ بحیرۂ احمر میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

July 25, 2026

مولانا فضل الرحمن کا سیاسی بیانیہ: مدارس اور طلبہ کے استعمال پر شدید تنقید

ناقدین کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی سیاست اصولوں کے بجائے اقتدار اور مراعات کے گرد گھومتی ہے اور وہ مدارس کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بناتے ہیں۔

July 25, 2026

مختلف سیاسی و تجزیاتی حلقوں کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی پالیسیوں اور بیانیے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا بنیادی محور مذہبی تحفظ کے بجائے اقتدار کا حصول، مراعات کی فراہمی اور اپنی سیاسی حیثیت کی بقا ہے۔

مختلف حلقوں کے مطابق ان کے اصول اور موقف کسی مستقل نظریے کے پابند نہیں بلکہ حکومتوں کے بدلنے اور اقتدار کی ضروریات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا سیاسی ریکارڈ موقع پرستی کا عکاس ہے، جہاں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے اصولوں کو مصلحت کا نام دے کر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ہر حکومت کے ساتھ مفاہمت یا مخالفت کا فیصلہ صرف ذاتی اور جماعتی فوائد کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

مذہبی کارڈ کا استعمال

مختلف حلقوں کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدارس اور ان کے معصوم طلبہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے انہیں اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مدارس کا ذکر عوامی خدمت یا دین کی پاسداری کے لیے نہیں بلکہ سیاسی سودے بازی اور اقتدار پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک اپنے سیاسی و مالی مطالبات پورے نہیں ہوتے، مدارس کو قومی اثاثہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعد میں وہی معاملے سیاسی ڈھال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل مذہبی اقدار سے زیادہ محض ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

July 25, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے کے تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے۔

July 25, 2026

بھارت میں طلبہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لے آیا، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے قبول کر لیا۔

July 25, 2026

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی آپریشن العزم کے تحت کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ٹھکانے تباہ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہو گئی۔

July 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *