مختلف سیاسی و تجزیاتی حلقوں کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی پالیسیوں اور بیانیے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا بنیادی محور مذہبی تحفظ کے بجائے اقتدار کا حصول، مراعات کی فراہمی اور اپنی سیاسی حیثیت کی بقا ہے۔
مختلف حلقوں کے مطابق ان کے اصول اور موقف کسی مستقل نظریے کے پابند نہیں بلکہ حکومتوں کے بدلنے اور اقتدار کی ضروریات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا سیاسی ریکارڈ موقع پرستی کا عکاس ہے، جہاں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے اصولوں کو مصلحت کا نام دے کر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ہر حکومت کے ساتھ مفاہمت یا مخالفت کا فیصلہ صرف ذاتی اور جماعتی فوائد کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
مذہبی کارڈ کا استعمال
مختلف حلقوں کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدارس اور ان کے معصوم طلبہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے انہیں اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مدارس کا ذکر عوامی خدمت یا دین کی پاسداری کے لیے نہیں بلکہ سیاسی سودے بازی اور اقتدار پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک اپنے سیاسی و مالی مطالبات پورے نہیں ہوتے، مدارس کو قومی اثاثہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعد میں وہی معاملے سیاسی ڈھال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل مذہبی اقدار سے زیادہ محض ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔