لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

مولانا فضل الرحمن کا سیاسی بیانیہ: مدارس اور طلبہ کے استعمال پر شدید تنقید

مختلف حلقوں کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدارس اور ان کے معصوم طلبہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے انہیں اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مختلف حلقوں کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدارس اور ان کے معصوم طلبہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے انہیں اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی سیاست اصولوں کے بجائے اقتدار اور مراعات کے گرد گھومتی ہے اور وہ مدارس کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بناتے ہیں۔

July 25, 2026

مختلف سیاسی و تجزیاتی حلقوں کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی پالیسیوں اور بیانیے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا بنیادی محور مذہبی تحفظ کے بجائے اقتدار کا حصول، مراعات کی فراہمی اور اپنی سیاسی حیثیت کی بقا ہے۔

مختلف حلقوں کے مطابق ان کے اصول اور موقف کسی مستقل نظریے کے پابند نہیں بلکہ حکومتوں کے بدلنے اور اقتدار کی ضروریات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا سیاسی ریکارڈ موقع پرستی کا عکاس ہے، جہاں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے اصولوں کو مصلحت کا نام دے کر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ہر حکومت کے ساتھ مفاہمت یا مخالفت کا فیصلہ صرف ذاتی اور جماعتی فوائد کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

مذہبی کارڈ کا استعمال

مختلف حلقوں کا الزام ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدارس اور ان کے معصوم طلبہ کی حقیقی نمائندگی کرنے کے بجائے انہیں اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مدارس کا ذکر عوامی خدمت یا دین کی پاسداری کے لیے نہیں بلکہ سیاسی سودے بازی اور اقتدار پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک اپنے سیاسی و مالی مطالبات پورے نہیں ہوتے، مدارس کو قومی اثاثہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعد میں وہی معاملے سیاسی ڈھال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل مذہبی اقدار سے زیادہ محض ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *