جرمنی کے سرکاری مالی اعانت سے چلنے والے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کی ایک حالیہ ڈاکیومنٹری کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ ڈاکیومنٹری پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور سکیورٹی ڈھانچے کے خلاف شائع کی گئی تھی۔
تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس رپورٹ کو غیر متوازن اور صحافتی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ ناقدین کے مطابق اس ڈاکیومنٹری میں پاکستان کے خلاف بھارت نواز پروپیگنڈا شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکیومنٹری میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قانونی حیثیت اور حفاظت پر سوالات اٹھائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں یہ حقیقت نظر انداز کر دی گئی کہ پاکستان نے 1998 میں بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں اپنا دفاع یقینی بنانے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔
مبصرین کے مطابق ڈوئچے ویلے کی اس رپورٹ میں خطے میں بھارتی اقدامات اور اس کے جوہری پروگرام کے پھیلاؤ کو نظر انداز کر کے تمام تر ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ جرمن میڈیا کا یہ اقدام اسلاموفوبیا اور پاکستان مخالف لابی کے اثر و رسوخ کا عکاس ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ انتخابات میں جرمنی کو ملنے والی ناکامی کے بعد ایسے ادارے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے اس نوعیت کی رپورٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔
تاحال ڈوئچے ویلے کی جانب سے ان تحفظات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دیکھیے: پاسداران انقلاب نے 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کر دیا