افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلسل سرگرم مسلح گروپ قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں طالبان مخالف مزاحمت اب ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کی سکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
قومی مزاحمتی محاذ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق تازہ ترین کارروائی میں بدخشاں کے اہم ضلع کران و منجان میں قائم طالبان کی ایک سکیورٹی چوکی پر کی گئی۔
کران و منجان میں حملہ
مزاحمتی محاذ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس منظم حملے کے نتیجے میں طالبان کا ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ ایک کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ جھڑپ کے دوران طالبان کے دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے، جس سے جانی نقصان کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔
اسی دوران صحافتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجوؤں نے بدخشاں کے ایک اور اہم ضلع زیبک میں بھی طالبان کی ایک اور چوکی پر قبضہ کر لیا ہے۔
مزاحمتی صفوں میں شمولیت
قومی مزاحمتی محاذ نے اپنے جاری کردہ نئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بدخشاں، بلخ، پنجشیر اور دیگر شمالی اضلاع سے دو ہزار سے زائد افغان نوجوان مختلف مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں۔
این آر ایف کا کہنا ہے کہ بدخشاں کا علاقہ تدریجاً طالبان کے کنٹرول سے نکل کر مقامی اور مزاحمتی عناصر کے اثر و رسوخ میں واپس آ رہا ہے۔
عوامی ردعمل
سابق افغان سفارت کار فیاض غیاثی نے موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آزادیاں سلب ہونے کے باعث بدخشاں سمیت تمام شمالی و شمال مشرقی صوبوں میں عوامی عدم اطمینان بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقے مستقبل میں طالبان کے مکمل کنٹرول سے آزاد ہو سکتے ہیں۔
معاشی مسائل اور شہری حقوق کی پامالیوں کے باعث عام افغان شہریوں میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بھی ان مزاحمتی گروہوں کو قوت فراہم کر رہا ہے۔