لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت: ہزاروں نوجوانوں کی این آر ایف میں شمولیت

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل؛ بدخشاں کے ضلع کران و منجان میں این آر ایف کا چوکی پر حملہ، ایک طالبان اہلکار گرفتار جبکہ تین ہلاک و زخمی ہو گئے۔
بدخشاں: مزاحمتی محاذ کا طالبان چوکی پر حملے کا دعویٰ

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت میں تیزی۔ بدخشاں کے ضلع کران و منجان میں این آر ایف کا حملہ، ایک طالبان اہلکار گرفتار اور تین ہلاک و زخمی۔ ہزاروں نوجوانوں کی مزاحمتی تنظیموں میں شمولیت کا دعویٰ۔

July 28, 2026

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلسل سرگرم مسلح گروپ قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں طالبان مخالف مزاحمت اب ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کی سکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

قومی مزاحمتی محاذ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق تازہ ترین کارروائی میں بدخشاں کے اہم ضلع کران و منجان میں قائم طالبان کی ایک سکیورٹی چوکی پر کی گئی۔

کران و منجان میں حملہ

مزاحمتی محاذ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس منظم حملے کے نتیجے میں طالبان کا ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ ایک کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ جھڑپ کے دوران طالبان کے دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے، جس سے جانی نقصان کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔

اسی دوران صحافتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجوؤں نے بدخشاں کے ایک اور اہم ضلع زیبک میں بھی طالبان کی ایک اور چوکی پر قبضہ کر لیا ہے۔

مزاحمتی صفوں میں شمولیت

قومی مزاحمتی محاذ نے اپنے جاری کردہ نئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بدخشاں، بلخ، پنجشیر اور دیگر شمالی اضلاع سے دو ہزار سے زائد افغان نوجوان مختلف مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں۔

این آر ایف کا کہنا ہے کہ بدخشاں کا علاقہ تدریجاً طالبان کے کنٹرول سے نکل کر مقامی اور مزاحمتی عناصر کے اثر و رسوخ میں واپس آ رہا ہے۔

عوامی ردعمل

سابق افغان سفارت کار فیاض غیاثی نے موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آزادیاں سلب ہونے کے باعث بدخشاں سمیت تمام شمالی و شمال مشرقی صوبوں میں عوامی عدم اطمینان بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقے مستقبل میں طالبان کے مکمل کنٹرول سے آزاد ہو سکتے ہیں۔

معاشی مسائل اور شہری حقوق کی پامالیوں کے باعث عام افغان شہریوں میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بھی ان مزاحمتی گروہوں کو قوت فراہم کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *