آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں جاری دھرنے کے حوالے سے نئی سکیورٹی و سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مبینہ طور پر وابستہ عناصر احتجاجی سرگرمیوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان دعوؤں اور خبروں کے سامنے آنے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کی حساسیت بڑھ گئی ہے.
وائرل ویڈیوز
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ الزامات کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈر کے مبینہ بیٹے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جسے بعض حلقے جے اے اے سی اور کالعدم تنظیموں کے درمیان مبینہ تعلق کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال کے پیشِ نظر علاقے میں نگرانی سخت کر دی ہے اور مبینہ شواہد کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
راولاکوٹ دھرنے میں مبینہ ٹی ٹی پی–JAAC گٹھ جوڑ: پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش
— The Intel Consortium (@IntelPk_) July 27, 2026
کالعدم ٹی ٹی پی سے مبینہ تعلق رکھنے والے مسلح عناصر JAAC کے دھرنے میں دراندازی کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیف اللہ کشمیری، جو مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کمانڈر ڈاکٹر رؤف کشمیری کا بیٹا ہے، عمر نذیر… pic.twitter.com/WYGtJ9RAEQ
جے اے اے سی کی تردید
دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اور دھرنے کی قیادت نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھرنا محض عوامی و معاشی مطالبات کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اسے متنازع بنانے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
دیکھیے: گرفتار دہشت گرد کے فتنہ الہندوستان نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات