سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی میں گرفتار مبینہ فتنہ الہندوستان کے رکن حبیب اللہ نے دورانِ تفتیش کئی اہم دعوے کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان دعوؤں کا تعلق تنظیم کے اندرونی معاملات اور سرگرمیوں سے ہے۔
ملزم کے مطابق اسے مالی مدد اور بہتر مستقبل کے وعدوں کے ذریعے تنظیم میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد اسے چنال دشت کے علاقے میں نظریاتی تربیت دی گئی۔
سرگڑھ کیمپ میں اسے اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور گھات لگا کر حملے کرنے کی عملی تربیت بھی دی گئی۔ حبیب اللہ کے بقول اسے گرفتاری سے بچنے کے طریقے بھی سکھائے گئے۔
کیمپ میں خوراک کی شدید کمی تھی۔ اس کمی کے باعث ارکان مبینہ طور پر قریبی دیہات سے راشن اور دیگر سامان چھیننے پر مجبور ہوتے تھے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے ایک انٹیلیجینس بیسڈ آپریشن کے دوران حراست میں لیے گئے دہشتگرد ”حبیب اللہ“ کا اعترافی بیان!
— The Thursday Times (@thursday_times) July 27, 2026
حبیب اللہ نے ویڈیو بیان میں مالی لالچ کیلئے دہشتگرد نیٹ ورک میں شامل ہو کر مختلف حملوں میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور پانچ افراد کے قتل کا بھی اعتراف کیا… pic.twitter.com/KFQzkCgPtn
ملزم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرنے والے افراد کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ اس کے مطابق بعض ارکان کو تنظیم چھوڑنے کی کوشش پر قتل بھی کر دیا جاتا تھا۔
گرفتار ملزم نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ مختلف کارروائیوں کے لیے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد، خوراک اور ادویات کی ترسیل میں شامل رہا۔
اس کے مطابق خضدار پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ہر کارروائی کے بعد اسے صرف 25 ہزار روپے معاوضے کے طور پر دیے جاتے تھے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ انکشافات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو مالی لالچ اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتی ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے نوجوانوں کو بعد ازاں پرتشدد سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
دیکھیے: تربت: دہشت گرد عثمان کی والدہ کا بیٹے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان