افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے کم سن بچوں کو فوجی مقاصد اور مخصوص نظریاتی تربیت کے لیے تیار کرنے کے اقدامات پر شديد نگرانی اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جسے انسانی حقوق کے مبصرین بچوں کے استحصال کی سنگین شکل قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں افغان بچوں سے تعلیم، تحفظ اور ایک نارمل بچپن کا حق چھین کر انہیں انتہا پسندانہ سوچ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
The next generation of Afghanistan. Afghanistan’s future Mujahideen. pic.twitter.com/13edfFBuF5
— W.A. Mubariz – وکیل احمد مبارز (@WakeelMubariz) July 26, 2026
منظم نظریاتی پالیسی
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے یہ اقدامات کسی انفرادی عمل کے بجائے ایک باقاعدہ اور منظم پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کمسن ذہنوں کو تعلیمی ترقی، تنقیدی سوچ اور پرامن بقائے باہمی سے دور کر کے مخصوص نظریات کا پابند بنانا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ تشدد کی سوچ کے ساتھ پروان چڑھنے والی یہ نئی نسل آنے والی دہائیوں میں افغانستان اور خطے کے طویل المدتی امن و استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی قوانین؟
حقوقِ انسانی کے قوانین کے تحت مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی یا انہیں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا سخت ممنوع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن اور اس کے اختیاری پروٹوکولز کے تحت یہ اقدام بین الاقوامی ضوابط کی کھلی ورزی شمار ہوتا ہے۔
مزید برآں، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیٹیوٹ کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو جنگی یا عسکری کارروائیوں میں استعمال کرنا باقاعدہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
عالمی برادری کے لیے چیلنج
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ نوجوانوں کی فلاح، عام تعلیم اور معاشی بحالی کی جگہ عسکری و نظریاتی ترجیحات کو فوقیت دے رہی ہے۔
عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور افغان بچوں کو اس استحصال سے بچانے کے لیے مؤثر و مسلسل سفارتی دباؤ قائم رکھے۔
دیکھیے: طالبان مخالف مزاحمت میں شدت؛ بدخشاں اور پنجشیر کے بعد اب نیمروز میں بھی طالبان پر مسلح حملے