لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

افغانستان میں کمسن بچوں کی عسکری تربیت کا انکشاف، عالمی سطح پر شدید تشویش

طالبان کی جانب سے 10 سال تک کے افغان بچوں کی عسکری اور نظریاتی تربیت کا انکشاف؛ عالمی قوانین اور روم اسٹیٹیوٹ کی سنگین خلاف ورزی پر تحفظات۔
افغانستان میں کمسن بچوں کی عسکری تربیت کا انکشاف، عالمی سطح پر شدید تشویش

افغانستان میں طالبان کی جانب سے بچوں کی عسکری و نظریاتی تربیت کا انکشاف۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تشویش، جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ۔

July 28, 2026

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی جانب سے کم سن بچوں کو فوجی مقاصد اور مخصوص نظریاتی تربیت کے لیے تیار کرنے کے اقدامات پر شديد نگرانی اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جسے انسانی حقوق کے مبصرین بچوں کے استحصال کی سنگین شکل قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں افغان بچوں سے تعلیم، تحفظ اور ایک نارمل بچپن کا حق چھین کر انہیں انتہا پسندانہ سوچ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

منظم نظریاتی پالیسی

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے یہ اقدامات کسی انفرادی عمل کے بجائے ایک باقاعدہ اور منظم پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کمسن ذہنوں کو تعلیمی ترقی، تنقیدی سوچ اور پرامن بقائے باہمی سے دور کر کے مخصوص نظریات کا پابند بنانا ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ تشدد کی سوچ کے ساتھ پروان چڑھنے والی یہ نئی نسل آنے والی دہائیوں میں افغانستان اور خطے کے طویل المدتی امن و استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی قوانین؟

حقوقِ انسانی کے قوانین کے تحت مسلح تنازعات میں بچوں کی بھرتی یا انہیں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا سخت ممنوع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن اور اس کے اختیاری پروٹوکولز کے تحت یہ اقدام بین الاقوامی ضوابط کی کھلی ورزی شمار ہوتا ہے۔

مزید برآں، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیٹیوٹ کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو جنگی یا عسکری کارروائیوں میں استعمال کرنا باقاعدہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

عالمی برادری کے لیے چیلنج

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ نوجوانوں کی فلاح، عام تعلیم اور معاشی بحالی کی جگہ عسکری و نظریاتی ترجیحات کو فوقیت دے رہی ہے۔

عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور افغان بچوں کو اس استحصال سے بچانے کے لیے مؤثر و مسلسل سفارتی دباؤ قائم رکھے۔

دیکھیے: طالبان مخالف مزاحمت میں شدت؛ بدخشاں اور پنجشیر کے بعد اب نیمروز میں بھی طالبان پر مسلح حملے

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *