افغانستان کے شہر مزارِ شریف سے تقریباً ایک دہائی سے مقیم امریکی شہری ٹاڈ ایڈم بیکر کی پراسرار طور پر لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لیا، تاہم طالبان انتظامیہ نے تاحال نہ تو ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان کے مقامِ موجودگی سے متعلق کوئی معلوما ت فراہم کی ہیں۔
ریاست میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والے ٹاڈ ایڈم بیکر 2017 سے مزار شریف کے علاقے زرعت میں مقیم تھے اور وہاں ایک مشاورتی کمپنی چلا رہے تھے۔ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کا خاندان ترکی منتقل ہو گیا تھا، تاہم وہ اپنے کاروبار کی دیکھ بھال کے لیے افغانستان اور بیرونِ ملک سفر کرتے رہے۔
اہل خانہ اور قریبی ذرائع کے مطابق 17 جولائی کی سہ پہر کے بعد سے ان کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے اور ان کی موجودہ حالت کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع دستیاب نہیں۔
ٹاڈ بیکر طویل عرصے سے امدادی تنظیم ‘انٹرنیشنل اسسٹنس مشن سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں عیسائیت کی تبلیغ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب یہ معاملہ امریکی حکام کے علم میں لایا جا چکا ہے، لیکن فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی بازیابی کے لیے طالبان اور امریکی حکام کے درمیان کوئی باضابطہ مذاکرات جاری ہیں یا نہیں۔