بلوچستان کی تاریخ جہاں مزاحمت اور جدوجہد سے عبارت ہے، وہیں یہ خطہ تحریکِ پاکستان، قومی یکجہتی اور دفاعِ وطن کی خاطر دی جانے والی لازوال قربانیوں کا بھی امین رہا ہے۔ ماہرین اور مفکرین کے مطابق بلوچ ہیروز کو قومی بیانیے، نصاب اور تاریخ میں ان کا جائز مقام دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے تاکہ ملک کی نئی نسل اپنی حقیقی اور مشترکہ قومی شناخت سے جڑ سکے۔
تاریخی حقائق کے مطابق تحریکِ پاکستان میں بلوچستان کی سیاسی قیادت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ میر جعفر خان جمالی نے بلوچستان کی سیاسی آواز کو قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ساتھ جوڑ کر قومی اتحاد کو مضبوط بنایا، جبکہ قاضی محمد عیسیٰ نے مسلم لیگ کے صفِ اول کے رہنما کے طور پر قائد کے وژن کو عام عوام تک پہنچایا۔
اس کے علاوہ فتح محمد بلوچ نے تحریکِ پاکستان کے مقاصد کے فروغ اور مسلم لیگ کی جدوجہد کو تقویت دی، جبکہ ملک جان محمد خان نے بلوچستان میں پاکستان کے حق میں عوامی حمایت منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی طرح نواب محراب خان بگٹی نے خطے کے مستقبل کو پاکستان سے وابستہ کرتے ہوئے قومی وحدت کے لیے تاریخی خدمات سرانجام دیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی دفاعِ وطن کے لیے بلوچستان کے سپوت ہمیشہ صفِ اول میں رہے۔ میجر جنرل امیر حمزہ قیصرانی نے ملک کی سلامتی اور دفاع کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ بلوچستان کے عوام اور افواجِ پاکستان کی قربانیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ہیروز کو قومی تاریخ اور عوامی بیانیے میں شایانِ شان جگہ دی جائے، کیونکہ ایک مضبوط اور مستحکم قومی شناخت اپنی تاریخ، ہیروز اور مشترکہ جدوجہد کو یاد رکھنے سے ہی تشکیل پاتی ہے۔