پنجاب میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کی اپنے ملک واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ حکومت کی ہدایات پر پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ روزانہ مختلف شہروں میں کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جا سکے۔
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق اب تک لاہور سمیت پورے پنجاب سے 37 ہزار سے زائد افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق واپس بھیجے گئے افراد میں 14 ہزار 954 مرد، 7 ہزار 254 خواتین اور 14 ہزار 783 بچے شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں خاندان بھی اپنے ملک واپس گئے ہیں۔
دستاویزات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو واپس بھیجے گئے افراد میں 11 ہزار 145 ایسے لوگ شامل ہیں جن کے پاس رہائشی ثبوت موجود تھا، 11 ہزار 137 افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے تھے، جبکہ 14 ہزار 709 ایسے افراد تھے جو بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان میں رہ رہے تھے۔
ترجمان کے مطابق اس وقت بھی 214 افراد مختلف ہولڈنگ سینٹرز میں موجود ہیں۔ ان کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد انہیں بھی افغانستان روانہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تمام اضلاع کی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران یکیورٹی سخت رکھی جائے اور ہر مرحلہ قانون کے مطابق مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق تمام غیر قانونی مقیم افراد کو بلاامتیاز واپس بھیجا جائے گا، جبکہ کارروائی کے دوران ملکی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کا بھی خیال رکھا جائے گا۔
حکام کے مطابق پنجاب پولیس، ضلعی انتظامیہ، ایف آئی اے اور دیگر ادارے مل کر یہ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی۔