افغانستان کے جنوبی صوبے بامیان میں نامعلوم مسلح افراد نے بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ کے موٹر کیڈ کو حملے کا نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 2 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ شدید زخمی ہوئی۔ واقعے کے بعد افغان طالبان کی سیکیورٹی فورسز نے زخمی کمانڈر کو تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔
اس واقعے کے بعد افغانستان کی انتظامیہ کی سکیورٹی کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ افغان سرزمین پر طالبان مخالف اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے ٹارگٹڈ کارروائیوں اور باہمی تصادم کی لہر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ افغانستان اس وقت کالعدم بی ایل اے، القاعدہ اور داعش جیسے عالمی و علاقائی دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔
عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی جانب سے بارہا نشاندہی کے باوجود ان کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک افغانستان کے مختلف علاقوں میں بلا رکاوٹ سرگرم ہیں، جہاں سے وہ ناصرف کارروائیاں ترتیب دیتے ہیں بلکہ خطے اور بالخصوص پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی کا شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔