بھارت اندرونی طور پر نوجوانوں کی بے چینی اور بیرونی طور پر اپنے شہریوں کے عالمی جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق اب واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔

July 29, 2026

سکیورٹی فورسز کی ضلع خیبر اور نوشکی میں بڑی کارروائیاں، 24 گھنٹوں کے دوران فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے 32 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ تباہ۔

July 29, 2026

پشاور میں قومی پیغامِ امن کنونشن میں متفقہ پشاور اعلامیہ منظور کر لیا گیا۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو قرار دے دیا۔

July 29, 2026

خیبر پختونخوا کا شعبۂ صحت وینٹی لیٹر پر پہنچ گیا۔ ہسپتالوں میں جگہ اور سہولیات کی قلت کے باعث مریض آکسیجن سلنڈر کے ساتھ باہر چھوڑ دیے گئے جبکہ حکومت ترقی کے دعووں تک محدود ہے۔

July 29, 2026

ضلع کیچ کے علاقے کلاتک میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

July 29, 2026

سوات کے علاقے مٹہ میں فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 4 خوارج ہلاک اور راشد سر چوٹی پر قبضہ۔ 4 دہشت گردوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال بنا لیا۔

July 29, 2026

شہناز بلوچ پر قاتلانہ حملہ، افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر سنگین سوالات

افغانستان کے صوبے بامیان میں بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے قافلے پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ شہناز بلوچ شدید زخمی ہو گئی۔
شہناز بلوچ پر قاتلانہ حملہ، افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر سنگین سوالات

بامیان میں کالعدم بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ کے موٹر کیڈ پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک اور کمانڈر شدید زخمی۔ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس فعال۔

July 29, 2026

افغانستان کے جنوبی صوبے بامیان میں نامعلوم مسلح افراد نے بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ کے موٹر کیڈ کو حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 2 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ شدید زخمی ہوئی۔ واقعے کے بعد افغان طالبان کی سیکیورٹی فورسز نے زخمی کمانڈر کو تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

اس واقعے کے بعد افغانستان کی انتظامیہ کی سکیورٹی کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ افغان سرزمین پر طالبان مخالف اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے ٹارگٹڈ کارروائیوں اور باہمی تصادم کی لہر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کو ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ افغانستان اس وقت کالعدم بی ایل اے، القاعدہ اور داعش جیسے عالمی و علاقائی دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔

عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی جانب سے بارہا نشاندہی کے باوجود ان کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک افغانستان کے مختلف علاقوں میں بلا رکاوٹ سرگرم ہیں، جہاں سے وہ ناصرف کارروائیاں ترتیب دیتے ہیں بلکہ خطے اور بالخصوص پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی کا شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

بھارت اندرونی طور پر نوجوانوں کی بے چینی اور بیرونی طور پر اپنے شہریوں کے عالمی جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق میں فرق اب واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔

July 29, 2026

سکیورٹی فورسز کی ضلع خیبر اور نوشکی میں بڑی کارروائیاں، 24 گھنٹوں کے دوران فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے 32 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ تباہ۔

July 29, 2026

پشاور میں قومی پیغامِ امن کنونشن میں متفقہ پشاور اعلامیہ منظور کر لیا گیا۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو قرار دے دیا۔

July 29, 2026

خیبر پختونخوا کا شعبۂ صحت وینٹی لیٹر پر پہنچ گیا۔ ہسپتالوں میں جگہ اور سہولیات کی قلت کے باعث مریض آکسیجن سلنڈر کے ساتھ باہر چھوڑ دیے گئے جبکہ حکومت ترقی کے دعووں تک محدود ہے۔

July 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *